وَقُلِ اعْمَلُوۡا فَسَیَرَی اللہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوۡلُہٗ وَالْمُؤْمِنُوۡنَ ؕ وَسَتُرَدُّوۡنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیۡبِ وَالشَّہٰدَۃِ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور تم فرما ؤ کام کرو اب تمہارے کام دیکھے گا اللہ اور اس کے رسول اور مسلمان اور جلد اس کی طرف پلٹوگے جو چھپا اور کھلا سب جانتا ہے تو وہ تمہارے کام تمہیں جتادے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم فرما ؤ: تم عمل کرو ،اب اللہ اور اس کے رسول اور مسلمان تمہارے کام دیکھیں گے اور جلد ہی تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے جوہر غیب اور ظاہر کو جاننے والاہے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال بتائے گا۔
{ وَقُلِ اعْمَلُوۡا:اور تم فرما ؤ: تم عمل کرو ۔} اس آیت میں اطاعت گزاروں کو عظیم ترغیب اور گناہگاروں کوبڑی ترہیب دی گئی ہے ، توگویا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’تم مستقبل کے لئے کوشش کرو کیونکہ تمہارے اعمال کا ایک ثمرہ دنیا میں ہے اور ایک ثمرہ آخرت میں ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاور مسلمان تمہارے اعمال دیکھ رہے ہیں ، اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی اطاعت کرو گے تو دنیا میں تمہاری بڑی تعریف ہو گی اور دنیا و آخرت میں تمہیں عظیم اجر ملے گا اور اگر تم اللہ تعالیٰ اور ا س کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کرو گے تو دنیا میں تمہاری مذمت ہو گی اور آخرت میں تمہیں شدید عذاب ہو گا۔ (1)
{ وَسَتُرَدُّوۡنَ:اورجلد ہیتم لوٹائے جاؤگے۔} یعنی عنقریب تم قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو تمہاری خَلْوَت اور جَلْوَت کو جانتا ہے، تمہارے ظاہر و باطن میں سے کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ، تم دنیا میں جو اچھے برے جو اعمال کرتے تھے وہ تمہیں بتا دے گا اور تمہیں تمہارے اَعمال کی جزا د ے گا۔ (2)
وَ اٰخَرُوۡنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللہِ اِمَّا یُعَذِّبُہُمْ وَ اِمَّا یَتُوۡبُ عَلَیۡہِمْ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۰۶﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۶/۱۴۲۔
2…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۲/۲۸۰۔