Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
206 - 576
 ہوا کہ اگر کوئی نیکی نہ کر سکے مگر نیکیوں کا دل سے خیر خواہ رہے تب بھی اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ نیکوں میں شمار ہو گا۔ آیت کا مَنشا یہ ہے کہ مجبور مسلمان جو جہاد میں شریک نہ ہو سکیں وہ مدینہ میں رہ کر اللہ رسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خیر خواہی میں مجاہدین کے بچوں کی خدمت کریں۔ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’تم مدینہ منورہ میں ایسے لوگوں کو بھی چھوڑ آئے ہو کہ تم جو سفر کر رہے ہو ،جو مال خرچ کر رہے ہو اور جن وادیوں کو طے کر رہے ہو ہر کام میں وہ تمہارے ساتھ ہیں۔ صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی: یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، وہ ہمارے ساتھ کس طرح شمار ہو گئے جبکہ وہ تو مدینہ منورہ میں ہیں ، ارشاد فرمایا: انہیں مجبوری نے روکا ہے۔ (1)
وَّلَا عَلَی الَّذِیۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُکُمْ عَلَیۡہِ ۪ تَوَلَّوۡا وَّ اَعْیُنُہُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوۡا مَا یُنۡفِقُوۡنَ ﴿ؕ۹۲﴾ اِنَّمَا السَّبِیۡلُ عَلَی الَّذِیۡنَ یَسْتَاۡذِنُوۡنَکَ وَہُمْ اَغْنِیَآءُ ۚ رَضُوۡا بِاَنۡ یَّکُوۡنُوۡا مَعَ الْخَوَالِفِ ۙ وَطَبَعَ اللہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ فَہُمْ لَایَعْلَمُوۡنَ ﴿۹۳﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور نہ ان پر جو تمہارے حضور حاضر ہوں کہ تم انہیں سواری عطا فرماؤ تم سے یہ جواب پائیں کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں  اس پر یوں واپس جائیں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو ابلتے ہوں اس غم سے کہ خرچ کا مقدور نہ پایا۔مؤاخذہ تو ان سے ہے جو تم سے رخصت مانگتے ہیں اور وہ دولت مند ہیں انہیں پسند آیا کہ عورتوں کے ساتھ پیچھے بیٹھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی تو وہ کچھ نہیں جانتے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور نہ ان پر کوئی حرج ہے جوآپ کے پاس اس لئے آتے ہیں تاکہ آپ انہیں سواری دیدیں (لیکن
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…ابوداؤد، کتاب الجہاد، باب فی الرخصۃ فی القعود من العذر، ۳/۱۷، الحدیث: ۲۵۰۸۔