Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
205 - 576
لَیۡسَ عَلَی الضُّعَفَآءِ وَلَا عَلَی الْمَرْضٰی وَلَا عَلَی الَّذِیۡنَ لَایَجِدُوۡنَ مَا یُنۡفِقُوۡنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوۡا لِلہِ وَرَسُوۡلِہٖ ؕ مَا عَلَی الْمُحْسِنِیۡنَ مِنۡ سَبِیۡلٍ ؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿ۙ۹۱﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: ضعیفوں پر کچھ حرج نہیں ا ور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جنہیں خرچ کا مقدور نہ ہو جب کہ اللہ و رسول کے خیر خواہ رہیں نیکی والوں پر کوئی راہ نہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: کمزوروں پر اور بیماروں پر اورخرچ کرنے کی طاقت نہ رکھنے والوں پر کوئی حرج نہیں جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خیر خواہ رہیں۔ نیکی کرنے والوں پر کوئی راہ نہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
{ لَیۡسَ عَلَی الضُّعَفَآءِ:کمزوروں پرکوئی حرج نہیں۔} باطل عذر والوں کا ذکر فرمانے کے بعد سچے عذر والوں کے متعلق فرمایا کہ ان پر سے جہاد کی فرضیت ساقط ہے ۔یہ کون لوگ ہیں ؟ان کے چند طبقے بیان فرمائے 
	پہلا طبقہ ضعیف جیسے کہ بوڑھے ،بچے ، عورتیں اور وہ شخص بھی انہیں میں داخل ہے جو پیدائشی کمزور ضعیف ونحیف ہو۔ 
	دوسرا طبقہ بیمار، اس میں اندھے ،لنگڑے، اپاہج بھی داخل ہیں۔
	 تیسرا طبقہ وہ لوگ جنہیں خرچ کرنے کی قدرت نہ ہو اور سامانِ جہاد نہ کرسکیں یہ لوگ رہ جائیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔ (1) 
{ اِذَا نَصَحُوۡا لِلہِ وَرَسُوۡلِہٖ:جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خیر خواہ رہیں۔} یعنی ان کی اطاعت کریں اور مجاہدین کے گھر والوں کی خبر گیری رکھیں۔ (2)
	اس سے معلوم ہوا کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خیر خواہی رب تعالیٰ کی خیر خواہی ہے ۔ یہ بھی معلوم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیرکبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۹۱، ۶/۱۲۱۔
2…تفسیرکبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۹۱، ۶/۱۲۱، ملخصاً۔