آیت نمبر 55 کے تحت گزر چکی ہے اور یہاں منافقوں کے مال و اولاد پر تعجب نہ کرنے کو دوبارہ ذکر کرنے کی ایک حکمت یہ ہے کہ لوگ اس بات کو بھول نہ جائیں اور اس سے غافل نہ ہوں اور یہ اعتقاد رکھیں کہ اس پر عمل کرنا انتہائی اہم ہے۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ مال اور اولاد ایسی چیزیں ہیں جن میں مشغولیت کی وجہ سے دل بہت جلد دنیا کی طرف راغب ہو جاتا ہے اور جو چیز دنیا کی طرف زیادہ راغب کرنے والی ہواس سے بار بار بچنے کا حکم دیاجاتاہے ا س لئے یہاں دوبارہ منافقوں کے مال اور اولاد پر تعجب نہ کرنے کافرما یاگیا ہے۔ (1)
وَ اِذَاۤ اُنۡزِلَتْ سُوۡرَۃٌ اَنْ اٰمِنُوۡا بِاللہِ وَجٰہِدُوۡا مَعَ رَسُوۡلِہِ اسْتَاۡذَنَکَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْہُمْ وَقَالُوۡا ذَرْنَا نَکُنۡ مَّعَ الْقٰعِدِیۡنَ ﴿۸۶﴾ رَضُوۡا بِاَنۡ یَّکُوۡنُوۡا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ فَہُمْ لَایَفْقَہُوۡنَ ﴿۸۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب کوئی سورت اترے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ جہاد کرو تو ان کے مقدور والے تم سے رخصت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں چھوڑ دیجیے کہ بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ ہولیں۔انہیں پسند آیا کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ ہوجائیں اور ان کے دلوں پر مہُر کردی گئی تووہ کچھ نہیں سمجھتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ جہاد کرو تو ان کے قوت و طاقت رکھنے والے تم سے رخصت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں چھوڑ دیجیے تاکہ بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ ہوجائیں۔انہیں یہ پسند آیا کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ ہوجائیں اور ان کے دلوں پر مہُرلگادی گئی تو وہ کچھ سمجھتے نہیں۔
{ اٰمِنُوۡا بِاللہِ وَجٰہِدُوۡا مَعَ رَسُوۡلِہِ:اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ جہاد کرو۔}بعض علماء نے اس آیت کی بنا پر فرمایا کہ ایمان کے بعد جہاد کا درجہ ہے اور جہاد اعلیٰ درجے کی عبادت ہے کہ رب تعالیٰ نے اسے ایمان کے بعد ذکر فرمایا۔ مگر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۵، ۲/۲۶۹، تفسیر کبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۵، ۶/۱۱۸، ملتقطاً۔