ہے تو مسلمانوں کی سربراہی کے دعوے دار اس کے مرنے پر اس طرح اظہارِ افسوس کرتے ہیں جیسے اِ ن کا کوئی اپنا بڑا فوت ہوگیا ہو اور اگر اس کی قبر بنی ہو تو اس پر کھڑے ہو کر دعا ئیں مانگتے ہیں۔ یہ دعا بالکل حرام ہے۔
آیت کی مناسبت سے ہم یہاں کافر،فاسق اور مسلمان کے جنازے سے متعلق چند شرعی مسائل ذکر کرتے ہیں
(1)… اس آیت سے ثابت ہوا کہ کافر کے جنازے کی نماز کسی حال میں جائز نہیں اور کافر کی قبر پر دفن و زیارت کے لئے کھڑے ہونا بھی ممنوع ہے اور یہ جو فرمایا ’’اور فسق ہی میں مرگئے‘‘یہاں فسق سے کفر مراد ہے قرآنِ کریم میں اور جگہ بھی فسق بمعنی کفر وارد ہوا ہے جیسے کہ آیت ’’ اَفَمَنۡ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنۡ کَانَ فَاسِقًا‘‘ (1)(توکیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو نافرمان ہے)میں۔
(2)… فاسق کے جنازے کی نماز جائز بلکہ فرضِ کِفایہ ہے ،اس پر صحابہ اور تابعین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا اجماع ہے اور اس پر علماء و صالحین کا عمل اور یہی اہلِ سنت و جما عت کا مذہب ہے۔
(3)… جب کوئی کافر مر جائے اور اس کا ولی مسلمان ہو تو اس کو چاہیے کہ بطریق مَسنون غسل نہ دے بلکہ اس پر پانی بہا دے اور نہ کفن مسنون دے بلکہ اتنے کپڑے میں لپیٹ دے جس سے اس کا ستر چھپ جائے اور نہ سنت طریقہ پر دفن کرے اور نہ بطریقِ سنت قبر بنائے ،صرف گڑھا کھود کر اندر رکھ دے ۔
وَلَا تُعْجِبْکَ اَمْوٰلُہُمْ وَ اَوْلٰدُہُمْ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللہُ اَنۡ یُّعَذِّبَہُمۡ بِہَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْہَقَ اَنۡفُسُہُمْ وَہُمْ کٰفِرُوۡنَ ﴿۸۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ان کے مال یا اولاد پر تعجب نہ کرنا اللہ یہی چاہتا ہے کہ اسے دنیا میں ان پر وبال کرے اور کفر ہی پر ان کا دم نکل جائے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان کے مال اور اولاد تمہیں تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ یہی چاہتا ہے کہ انہیں اس کے ذریعے دنیا میں سزا دے اور کفر کی حالت میں ان کی روح نکل جائے۔
{ وَلَا تُعْجِبْکَ اَمْوٰلُہُمْ وَ اَوْلٰدُہُمْ:اور ان کے مال اوراولاد تمہیں تعجب میں نہ ڈالیں۔} اس آیت کی تفسیر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…السجدۃ :۳۲