اس میں غیبی خبر ہے کہ وہ ایسا کہیں گے ۔
{ فَاقْعُدُوۡا مَعَ الْخٰلِفِیۡنَ:تو (اب) پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھ رہو۔} یعنی اب اگر منافقین جہاد میں ساتھ چلنے کی اجازت مانگیں تو ان سے فرما دو کہ اب تم ہرگز کبھی بھی میرے ساتھ نہ چلو اور نہ ہی میرے ساتھ کسی دشمن سے لڑو۔ تم نے پہلی دفعہ جہاد سے پیچھے بیٹھے رہنے کو پسند کیا تو اب بھی پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو یعنی عورتوں بچوں بیماروں اور اپاہجوں کے ساتھ بیٹھ رہو۔
صُلح کُلِّیَّت حکمِ قرآن کے خلاف ہے:
اس سے ثابت ہوا کہ جس شخص سے دھوکہ اور فریب ظاہر ہو اس سے تعلق ختم کر دینا اور علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے اور محض اسلام کے مُدّعی ہونے سے کسی کو ساتھ ملالینے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ساتھ منافقین کے جہاد میں جانے کو منع فرمایا۔ (1)
آج جو لوگ کہتے ہیں کہ ہر کلمہ گو کو ملالو اور اس کے ساتھ اتفاق و اتحاد کرو یہ اس حکمِ قرآنی کے بالکل خلاف ہے۔ اس حکم میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اگر مومنوں کے ساتھ منافقوں کو بھی کسی اہم مہم میں شامل کرلیا جائے تو وہ مسلمانوں کے دلوں میں نفاق پیدا کرنے کی کوشش کریں گے، جیسے بہادروں کے ساتھ اگر بزدلوں کو بھی کسی مہم میں بھیج دیا جائے تو وہ بزدل اپنی حرکتوں سے بہادروں کے بھی قدموں میں لغزش پیدا کردیں گے۔
وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنْہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ ؕ اِنَّہُمْ کَفَرُوۡا بِاللہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَمَاتُوۡا وَہُمْ فٰسِقُوۡنَ ﴿۸۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا بیشک وہ اللہ و رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۳، ۲/۲۶۷۔