Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
197 - 576
 اللہ تعالیٰ نے تم دونوں کو نافرمانی سے محفوظ فرما دیا ہے ۔ ‘‘پھر حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام چلے گئے اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ باہر تشریف لے آئے ۔ (1)
	اللہ تعالیٰ ہمیں بھی کم ہنسنے ، اپنی آخرت کے بارے میں فکرمند ہونے اور گریہ و زاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
فَاِنۡ رَّجَعَکَ اللہُ اِلٰی طَآئِفَۃٍ مِّنْہُمْ فَاسْتَاۡذَنُوۡکَ لِلْخُرُوۡجِ فَقُلۡ لَّنۡ تَخْرُجُوۡا مَعِیَ اَبَدًا وَّلَنۡ تُقٰتِلُوۡا مَعِیَ عَدُوًّا ؕ اِنَّکُمْ رَضِیۡتُمۡ بِالْقُعُوۡدِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ فَاقْعُدُوۡا مَعَ الْخٰلِفِیۡنَ ﴿۸۳﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: پھر اے محبوب اگر اللہ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ تم سے جہاد کو نکلنے کی اجازت مانگیں  تو تم فرمانا تم کبھی میرے ساتھ نہ چلو اور ہرگز میرے ساتھ کسی دشمن سے نہ لڑو  تم نے پہلی دفعہ بیٹھ رہنا پسند کیا تو بیٹھ رہو پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر اے حبیب! اگر اللہ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ تم سے جہاد میں ساتھ نکلنے کی اجازت مانگیں تو تم فرمادینا کہ تم کبھی بھی میرے ساتھ نہ چلو اور ہرگز میرے ساتھ کسی دشمن سے نہ لڑو۔ تم نے پہلی دفعہ بیٹھے رہنے کو پسند کیا تو (اب) پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھ رہو۔
{ فَاِنۡ رَّجَعَکَ اللہُ اِلٰی طَآئِفَۃٍ مِّنْہُمْ:پھر اے محبوب! اگر اللہ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، اب جو آپ غزوۂ تبوک سے واپس مدینہ منورہ پہنچیں گے تو منافقین دھوکہ دہی کے لئے کہیں گے کہ حضور ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، ہم کو اجازت دیں کہ آئندہ جہاد میں آپ کے ہمراہ چلیں۔ (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…مکاشفۃ القلوب، الباب التاسع بعد المائۃ فی التخویف من عذاب جہنم، ص۳۱۷۔
2…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۳، ۲/۲۶۷۔