(9)… ’’وَ لِلہِ الْعِزَّۃُ وَ لِرَسُوۡلِہٖ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:عزت تو اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے۔
ذکرِ خدا جو اُن سے جدا چاہو نجدیو! واللہ ذکرِ حق نہیں کنجی سقر کی ہے
یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوۡنَ اَنۡ تُنَزَّلَ عَلَیۡہِمْ سُوۡرَۃٌ تُنَبِّئُہُمْ بِمَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ قُلِ اسْتَہۡزِءُوۡا ۚ اِنَّ اللہَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوۡنَ ﴿۶۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: منافق ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی سورۃ ایسی اترے جو ان کے دلوں کی چھپی جتا دے تم فرماؤ ہنسے جاؤ اللہ کو ضرور ظاہر کرنا ہے جس کا تمہیں ڈر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: منافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی ایسی سورت نازل کردی جائے جو ان کے دلوں کی چھپی باتیں بتادے۔ تم فرماؤ: مذاق اڑالو، بیشک اللہ اس چیز کو ظاہر کرنے والاہے جس سے تم ڈرتے ہو۔
{ تُنَبِّئُہُمْ بِمَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ:جو ان کے دلوں کی چھپی باتیں بتادے۔} دلوں کی چھپی چیز ان کا نفاق ہے اور وہ بغض و عداوت جو وہ مسلمانوں کے ساتھ رکھتے تھے اور اس کو چھپایا کرتے تھے، سرور ِعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے معجزات دیکھنے اور آپ کی غیبی خبریں سننے اور ان کو واقع کے مطابق پانے کے بعد منافقوں کو اندیشہ ہوگیا کہ کہیں اللہ تعالیٰ کوئی ایسی سور ت نازل نہ فرمائے جس سے ان کے اَسرار ظاہر کردیئے جائیں اور ان کی رسوائی ہو۔ ان کے اس اندیشے کاذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے ’’اے پیارے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ ان منافقوں سے فرما دیں کہ تم نے جو مذاق اڑانا ہے وہ اڑالو، بیشک اللہ تعالیٰ اس چیز کو ظاہر کرنے والاہے جس کے ظاہر ہونے سے تم ڈرتے ہو۔ (2)
وَلَئِنۡ سَاَلْتَہُمْ لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّمَاکُنَّا نَخُوۡضُ وَنَلْعَبُ ؕ قُلْ اَبِاللہِ وَاٰیٰتِہٖ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…منافقون:۸۔
2…روح البیان، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۶۴، ۳/۴۵۸-۴۵۹۔