Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
84 - 558
میں تمہیں ڈراؤں اور وہ ڈرائیں جنہیں یہ قرآن پہنچے ۔ (1)
	 ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ترو تازہ کرے اس کو جس نے ہمارا کلام سنا اور جیسا سنا ویسا پہنچایا، بہت سے لوگ جنہیں کلام پہنچایا جائے وہ سننے والے سے زیادہ اہل ہوتے ہیں۔ (2)
	اور ایک روایت میں ہے’’ سننے والے سے زیادہ افقہ ہوتے ہیں۔ (3)
	اس سے فقہا کی قدرومنزلت معلوم ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی نبوت اور قرآن کی ہدایت کسی زمان و مکان اور کسی قوم کے ساتھ خاص نہیں۔ 
{ اَئِنَّکُمْ لَتَشْہَدُوۡنَ: کیا تم گواہی دیتے ہو؟} یہاں مشرکوں سے خطاب ہے یعنی اے حبیب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ ان کافروں سے فرمائیں کہ اے مشرکو! کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہیں ؟ اے حبیب ِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ! تم فرماؤ کہ میں یہ گواہی نہیں دیتا بلکہ تم فرماؤ کہ وہ تو ایک ہی معبود ہے اور میں ان جھوٹے خداؤں سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ عَزَّوَجَلَّکاشریک ٹھہراتے ہو  ۔ 
اسلام قبول کرنے والے کو کیا کرنا چاہئے؟
	اس آیت سے ثابت ہوا کہ جو شخص اسلام لائے اس کو چاہئے کہ توحید و رسالت کی شہادت کے ساتھ اسلام کے ہر مخالف عقیدہ و دین سے بیزاری کا اظہار کریبلکہ تمام بے دینوں سے دور رہے اور کفر و شرک و گناہ سے بیزار رہے بلکہ مومن کو چاہیے کہ اپنی صورت، سیرت، رفتار و گفتار سے اپنے ایمان کا اعلان کرے۔(4) 
اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوۡنَ اَبْنَآءَہُمۡ ۘ اَلَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوۡنَ ﴿۲۰﴾٪
ترجمۂکنزالایمان:جن کو ہم نے کتاب دی اس نبی کو پہچانتے ہیں جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں جنہوں نے اپنی جان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…جمل، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲/۳۲۷۔
2…ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ السماع، ۴/۲۹۹، الحدیث:۲۶۶۶۔
3…ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ السماع، ۴/۲۹۸، الحدیث:۲۶۶۵۔
4…نئے مسلمانوں میں سے جو انگلش زبان جانتے ہیں ،انہیں کتابWELCOME T0 ISLAM(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ کرنا چاہئے۔