Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
83 - 558
نبی کریمصَلَّی اللہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی گواہی دینا سنتِ خدا ہے:
	اللہتعالیٰ نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی گواہی کئی طرح دی: ایک یہ کہ اپنے خاص بندوں سے گواہی دلوا دی۔ دوسرے یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر جو کلام اتارا، اس میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت کا اعلان فرمایا۔ تیسرے یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بہت سے معجزات عطا فرمائے۔ یہ سب رب تعالیٰ کی گواہیاں ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی گواہی دینا سنت ِرسولُ اللہ ہے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی گواہی دینا سنتِ خدا ہے، ہمارے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا گواہ خود ربُ العالمین عَزَّوَجَلَّہے اور کلمۂ شہادت میں دونوں گواہیاں جمع فرما دی گئیں ،سُبْحَانَ اللہ۔
{ وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ: اور میر ی طر ف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے۔}یعنی اللہ تعالیٰ میری نبوت کی گواہی دیتا ہے اس لئے کہ اُس نے میری طرف اس قرآن کی وحی فرمائی اور یہ ایسا عظیم معجزہ ہے کہ تم فصیح وبلیغ اور صاحبِ زبان ہونے کے باوجود اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز رہے،اس سے ثابت ہوا کہ قرآنِ پاک عاجز کرنے والا ہے اور جب یہ عاجز کرنے والا ہے تو اس کتاب کا مجھ پر نازل ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے رسول ہونے کی یقینی شہادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان’ ’ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ‘‘سے یہی مراد ہے یعنی میری طرف اس قرآن کی وحی فرمائی گئی تا کہ میں اس کے ذریعے تمہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرنے سے ڈراؤں۔ (1)
{ وَمَنۡۢ بَلَغَ:اور جن تک یہ پہنچے۔} یعنی میرے بعد قیامت تک آنے والے جن افراد تک یہ قرآنِ پاک پہنچے خواہ وہ انسان ہوں یا جن ان سب کو میں حکمِ الٰہی کی مخالفت سے ڈراؤں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص کو قرآنِ پاک پہنچا یہاں تک کہ اس نے قرآن سمجھ لیاتو گویا کہ اس نے نبی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو دیکھا اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا کلام مبارک سنا۔ (2)
	حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سرکارِدو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے کسریٰ اور قَیصر و غیرہ سَلاطین کو دعوتِ اسلام کے مکتوب بھیجے۔(3)
	 اس کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ ’’مَنۡۢ بَلَغَ ‘‘ بھی فاعل کے معنیٰ میں ہے  اور معنیٰ یہ ہیں کہ اس قرآن سے 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲/۸۔
2…در منثور، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳/۲۵۷۔
3…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲/۸۔