مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں سب سے پہلے فرمانبرداری کے لئے گردن جھکاؤں کیونکہ نبی اپنی اُمت سے دین میں آگے ہوتے ہیں اور اس نے یہ حکم دیا ہے کہ میں شرک سے پاک رہوں۔
{ مَنۡ یُّصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ:اس دن جس سے عذاب پھیر دیا گیا۔}اس آیت سے معلوم ہو اکہ قیامت کے دن عذاب سے بچنا اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے ہو گا صرف اپنے اعمال اس کے لئے کافی نہیں کیونکہ اعمال سبب ہیں۔
وَ اِنۡ یَّمْسَسْکَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ اِنۡ یَّمْسَسْکَ بِخَیۡرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۷﴾ وَ ہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ ؕ وَ ہُوَ الْحَکِیۡمُ الْخَبِیۡرُ ﴿۱۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر تجھے اللہ کوئی برائی پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور وہی ہے حکمت والا خبردار۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر اللہ تجھے کوئی برائی پہنچائے تو اس کے سوا اس برائی کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر اللہ تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ ہر شے پر قادر ہے۔ اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہی حکمت والا خبردارہے۔
{ وَ اِنۡ یَّمْسَسْکَ اللہُ بِضُرٍّ:اور اگر اللہ تجھے کوئی برائی پہنچائے۔} ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے کوئی برائی مثلاً بیماری یا تنگ دستی یا اور کوئی بلا پہنچائے تو اس کے سوا اس برائی کو کوئی دور کرنے والا نہیں یعنی اس کی مرضی کے خلاف اس کا بھیجا ہوا عذاب کوئی نہیں دفع کر سکتا۔ اور جہاں تک نیک اعمال اور بزرگوں کی دعا سے عذاب اٹھ جانے کا تعلق ہے تو اسے بھی رب کریم عَزَّوَجَلَّہی اپنے فضل و کرم سے ،اِن اسباب کے وسیلہ سے اٹھاتا ہے اور جیسے برائی کا پہنچنا اور دور ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ، ایسے ہی بھلائی جیسے صحت و دولت وغیرہ کاپہنچنا بھی اسی خداوند ِ کریم کیقدرت سے ہے کیونکہ وہ ہر شے پر قادر ہے، کوئی اس کی مَشِیَّت کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا تو اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق کیسے ہوسکتا ہے؟ کیونکہ معبود وہ ہے جو قدر تِ کاملہ رکھتا ہو اور کسی کا حاجت مند نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ ایسا کوئی نہیں ، لہٰذا صرف