Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
80 - 558
قُلْ اَغَیۡرَ اللہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضِ وَ ہُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ ؕ قُلْ اِنِّیۡۤ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوۡنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿۱۴﴾ قُلْ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۵﴾ مَنۡ یُّصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہٗ ؕ وَ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیۡنُ ﴿۱۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا کسی اور کو والی بناؤں وہ اللہ جس نے آسمان و زمین پیدا کیے اور وہ کھلاتا ہے اور کھانے سے پاک ہے تم فرماؤ مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے گردن رکھوں اور ہرگز شرک والوں میں نہ ہونا۔ تم فرماؤ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔ اس دن جس سے عذاب پھیر دیا جائے ضرور اس پر اللہ کی مہر ہوئی اور یہی کھلی کامیابی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: کیا کسی اور کو اس اللہ کے سوا والی بنالوں جو آسمانوں اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے؟ اور وہ کھلاتا ہے اور وہ خود کھانے سے پاک ہے۔تم فرماؤ: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے فرمانبرداری کے لئے گردن جھکاؤں اور تو ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔ تم فرماؤ: اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔اس دن جس سے عذاب پھیر دیا گیا توضرور اس پر اللہ نے رحم فرمایا اور یہی کھلی کامیابی ہے۔
{ قُلْ: تم فرماؤ۔} کفارِ عرب نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو کہا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اپنے ملک والوں کے دین کی طرف آجائیں اور توحید کا ذکر چھوڑ دیں۔ اس کے جواب میں یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی (1)  اور فرمایا گیا کہ اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، انہیں جواب دو کہ کیا میں اُس اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کسی اور کو اپنا والی بنالوں جو آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمانے والا ہے نیز وہ سب کو کھلاتا ہے اور وہ خود کھانے سے پاک ہے، ساری مخلوق اُس کی محتاج ہے اوروہ سب سے بے نیاز ہے۔لہٰذا ایسے خالق و مالک، رحیم و کریم کو میں ہر گز نہیں چھوڑ سکتا۔ اس نے تو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیر قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۴، ۳/۲۴۵، الجزء السادس۔