Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
78 - 558
 اوراگر وہ یہ نہ کہیں تو تم خود یہ جواب دو کہ سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ اس کے سوا اور کوئی جواب ہوہی نہیں سکتا اور وہ اِس جواب کی مخالفت کرہی نہیں سکتے کیونکہ بت جن کو یہ مشرکین پوجتے ہیں وہ بے جان ہیں ، کسی چیز کے مالک ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے ،خود دوسروں کے مَملوک ہیں جبکہ آسمان و زمین کا وہی مالک ہوسکتا ہے جو حَیّ و قَیُّوم، اَزلی و اَبدی ، قادرِ مطلق، ہر شے پر مُتَصَرِّف اور حکمران ہو، تمام چیزیں اس کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ہوں ، ایسا سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں ، اس لئے تمام آسمانی و زمینی کائنات کا مالک اس کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔
{ کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ: اس نے اپنے ذمۂ کرم پر رحمت لکھ لی ہے۔} یعنی اس نے رحمت کا وعدہ فرمالیا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّکا وعدہ خلافی کرنا اور معاذاللہ جھوٹ بولنا محال ہے۔ اس نے رحمت کا وعدہ فرمالیا اور رحمت عام ہے دینی ہو یا دُنیوی، اپنی معرفت اور توحید اور علم کی طرف ہدایت فرمانا بھی اسی رحمت فرمانے میں داخل ہے، یونہی کفار کو مہلت دینا اورسزا دینے میں جلدی نہ فرمانا بھی رحمت میں داخل ہے کیونکہ اس سے انہیں توبہ اوررجوع کا موقع ملتا ہے۔(1)
 اللہ تعالیٰ کی رحمت دیکھ کر گناہوں پر بے باک نہیں ہو نا چاہئے:
	اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ رحیم اور سب سے بڑھ کر کریم ہے ،اس کے رحم و کرم کے خزانوں کی کوئی انتہاء نہیں ،وہ چاہے تو عمر بھر کے گناہ گار کو پل بھر میں بخش دے اور ا س کی ساری خطائیں معاف فرما دے لیکن اس کی وسیع رحمت کو دیکھ کر ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ بندہ گناہوں پر بے باک ہو جائے اور ا س کی نافرمانی کی پرواہ نہ کرے ۔ امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ، جس کا خلاصہ ہے کہ’’گناہ گار مومن ا س طرح دھوکے میں مبتلا ہیں کہ وہ یہ کہتے ہیں :اللہ تعالیٰ کریم ہے اور مجھے اس کے عفو و درگزر کی امید ہے،پھر اس بات پر بھروسہ کر کے اعمال سے غافل ہوجاتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت وسیع اور رحمت و کرم عام ہے، اس کی رحمت کے سمندر کے مقابلے میں بندوں کے گناہوں کی کیا حیثیت ہے، ہم توحید کو ماننے والے اور مومن ہیں اور ایمان کے وسیلے سے اس کی رحمت کے امید وار ہیں۔ بعض اوقات ان کے پاس اس امید کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ ہمارے باپ دادا نیک لوگ تھے اور ان کا درجہ بلند تھا جیسے کئی لوگ اپنے نسب کی وجہ سے دھوکے کا شکار ہیں حالانکہ وہ خوفِ خدا، تقویٰ اور پرہیز گاری وغیرہ کے سلسلے میں اپنے آباؤ اَجداد کی سیرت کے خلاف چلتے ہیں تو گویا اِن کا گمان یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنے باپ دادا سے بھی زیادہ معزز ہیں کیونکہ وہ باپ دادا توانتہائی درجہ کے تقویٰ کے باوجود خوف زدہ رہتے تھے اوریہ لوگ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…جمل، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲، ۲/۳۲۲-۳۲۳۔