Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
77 - 558
	اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ ان مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف اس لئے سفر کر کے جانا کہ وہاں نماز کا ثواب زیادہ ہے ممنوع ہے کیونکہ ان کے علاوہ سب مسجدوں میں نماز پڑھنے کاثواب برابر ہے۔ اگر اس حدیث کے یہ معنی کئے جائیں کہ ان تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف سفر کرنا حرام ہے یا ان تین مسجدوں کے علاوہ کہیں اور سفر کرنا جائز نہیں تو یہ حدیث قرآنِ مجید کی اس آیت اور دیگر احادیث کے بھی خلاف ہو گی ،نیز اس معنی کے حساب سے کہیں کا کوئی سفر کسی مقصد کے لئے جائز نہ ہو گا مثلاً جہاد، طلبِ علم، تبلیغِ دین،تجارت، سیاحت وغیرہ کسی کام کے لئے سفر جائز نہ ہو گا اور یہ امت کے اجماع کے خلاف ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ سفر کر کے اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کے مزارات پر جانا ممنوع و حرام نہیں بلکہ جائز اور مستحسن ہے ۔ 
قُلۡ لِّمَنۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ ؕ قُلۡ لِّلہِ ؕ کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ؕ لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ اَلَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوۡنَ ﴿۱۲﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے تم فرماؤ اللہ کا ہے اس نے اپنے کرم کے ذمہ پر رحمت لکھ لی ہے بیشک ضرور تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا اس میں کچھ شک نہیں وہ جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی ایمان نہیں لاتے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے؟ فرمادو: اللہ ہی کا ہے اس نے اپنے ذمۂ کرم پر رحمت لکھ لی ہے ۔بیشک وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گاجس میں کچھ شک نہیں۔ وہ جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا ہوا ہے تووہ ایمان نہیں لاتے۔
{ قُلۡ:تم فرماؤ۔} مزید فرمایا کہ اے حبیب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَآپ  ان سے پوچھیں کہجو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اس کا مالک کون ہے؟ اولاً تو وہ خود ہی کہیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے کیونکہ وہ اس کے معتقد ہیں