تھا ورنہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایک کیا بہت سے فرشتے نازل ہوتے تھے اور بسا اوقات انسانی شکل میں حاضر ہوتے تھے جنہیں صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمبھی دیکھتے تھے۔ ان کفار کا مطالبہ یہ تھا کہ فرشتہ اپنی اصلی صورت میں آئے اور ہم اسے اسی صورت میں دیکھیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ کفار نے بہت سی نشانیاں طلب کیں جو پوری بھی ہوئیں جیسے چاند کے دو ٹکڑے ہونا وغیرہ اور اس کے بعد وہ ایمان بھی نہیں لائے تو ایسی صورت میں آیت میں بیان کردہ حکم کے مطابق تو سب کو ہلاک کردیا جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا تو آیت کا مطلب کیا ہے یا پھر ان معجزات کے دکھائے جانے کا مطلب کیا ہوا؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نبوت پر دلالت کرنے والی نشانی دو طرح کی ہے (1) عام نشانی۔ (2) خاص نشانی۔ عام نشانی وہ ہے کہ جس کا تمام لوگ مطالبہ کریں یا سب مطالبہ تو نہ کریں لیکن اس کا مشاہدہ سب کر لیں۔ خاص نشانی وہ ہے کہ جس کا مطالبہ مخصوص لوگ کریں اور تمام ا فراد اس کا مشاہدہ نہ کر سکیں۔گزشتہ امتوں میں نشانی دیکھ لینے کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب نازل کرنے میں اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ رہا کہ عام نشانی یعنی جس میں سب عام و خاص شریک ہو جائیں اسے پورا کرنے کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب نازل فرماتا جبکہ خاص نشانی کے پورا ہونے کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب نازل نہیں فرماتا۔ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا مطالبہ مخصوص لوگوں نے کیا جو پورا ہوا لیکن یہ عام نشانی نہ تھی بلکہ خاص تھی کہ جب چاند دو ٹکڑے ہوا اس وقت اکثر لوگ سو رہے تھے، اور کئی مقامات پر اختلافِ مَطالع یا بادل حائل ہونے کی وجہ سے چاند دو ٹکڑے ہوتا نظر نہ آیا، اس لئے مطالبہ کرنے والوں پر عذاب نازل نہ ہوا۔ (1)
مرقاۃُ المفاتیح میں یہی عبارت شرحُ السنہ سے منقول ہے۔ ا س کی روشنی میں ابو جہل یا دیگر کفار کے مطالبات کو دیکھا جائے تو وہ خاص مطالبے خاص فرد کے لئے پورے ہوئے تھے اس لئے اس پر عذاب نازل نہ ہوا۔
وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا وَّلَلَبَسْنَا عَلَیۡہِمۡ مَّا یَلْبِسُوۡنَ ﴿۹﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور اگر ہم نبی کو فرشتہ کرتے جب بھی اسے مرد ہی بناتے اور ان پر وہی شبہ رکھتے جس میں اب پڑے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر ہم نبی کو فرشتہ بنادیتے توبھی اسے مرد ہی بناتے اور ان پر وہی شبہ ڈال دیتے جس میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…شرح السنہ للبغوی، کتاب الفضائل، باب علامات النبوۃ، ۷/۶۶، تحت الحدیث: ۳۶۰۵، ملخصاً۔