اس کے رسول ہو۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی (1) اور بتایا گیا کہ یہ سب حیلے بہانے ہیں کیونکہ اگر کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب بھی اتار دی جاتی اور وہ اُسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر اور ٹٹول کر دیکھ لیتے تو بھی یہی کہتے کہ ان کی نظر بندی کردی گئی تھی اورکتاب اُترتی نظر توآئی تھی لیکن حقیقت میں کچھ بھی نہیں تھا جیسے انہوں نے معجزہ شقُّ القمر یعنی چاند کے دوٹکڑے ہونے کے معجزے کو جادو بتایا اور اس معجزہ کو دیکھ کربھی ایمان نہ لائے، اسی طرح اِس پر بھی ایمان نہ لاتے کیونکہ جو لوگ عنادا ً انکار کرتے ہیں وہ آیات و معجزات سے نفع نہیں اٹھاسکتے۔
وَ قَالُوۡا لَوْلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ مَلَکٌ ؕ وَ لَوْ اَنۡزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الۡاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بولے ان پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا اور اگر ہم فرشتہ اتارتے تو کام تمام ہوگیا ہوتا پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:ا ور (کافروں نے) کہا :ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ کیوں نہ اتار دیا گیا حالانکہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو فیصلہ کردیا جاتا پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی۔
{ وَ قَالُوۡا:اور انہوں نے کہا۔}یعنی مشرکین نے مزید یہ کہا کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر آسمان سے کوئی فرشتہ کیوں نہ اتار دیا گیا جسے وہ دیکھتے ۔ اس پر فرمایا گیا کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ فرشتہ اتار دیتااور کافر پھر بھی ایمان نہ لاتے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب ان پر لازم ہوجاتا کیونکہ یہ سنتِ الٰہیہ ہے کہ جب کفار اجتماعی طورپر کوئی نشانی طلب کریں اور اس نشانی کے ظاہر ہوجانے کے بعد بھی ایمان نہ لائیں تو عذاب واجب ہوجاتا ہے اور وہ ہلاک کردیئے جاتے ہیں۔ چنانچہ اگر کافروں کا مطالبہ پورا کردیا جاتا اور یہ پھر بھی ایمان نہ لاتے تو انہیں ایک لمحے کی بھی مہلت نہ ملتی اور ان سے عذاب مُؤخر نہ کیا جاتا۔
نشانیاں پوری ہونے کے باوجود کفارِ مکہ پر عذاب نازل کیوں نہ ہوا؟
یاد رہے کہ کافروں نے ایسے فرشتے کے اترنے کا مطالبہ کیا تھا جو اُن کافروں کو بھی نظر آئے اور اسی کا رد کیا گیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۷، ۲/۷۰۔