Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
60 - 558
 جبرئیلعَلَیْہِ السَّلَام حاضر ہوئے اور حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے معلوم کر کے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جواب عرض کردیا (حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے) اللہ تعالیٰ نے جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا:اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ آپ کی امت کی بخشش کے معاملے میں ہم آپ کو راضی کر دیں گے اور آپ کو رنجیدہ نہیں کریں گے۔ (1)
مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہونے والی باتیں :
	اس حدیث پاک سے چند باتیں معلوم ہوئیں :
(1)…رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اپنی امت پر کمال درجے کے شفیق ومہربان تھے اور امت کی بھلائی اور بہتری میں کوشاں رہتے تھے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنی امت کے لئے کسی شرط اور قید کے بغیر بخشش کی دعا مانگی۔
(2)…اس امت مرحوم کے لئے عظیم بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امت کی بخشش کے معاملے میں اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو راضی فرمائے گا ۔
(3)…اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ا س کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا مقام بہت بلند ہے کہ سب کچھ جاننے والا ہونے کے باوجود حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَامکو اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں بھیجا اور اس سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی عظمت اور شرف کوظاہر فرمایا۔
(4)…نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبولیت کے اتنے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عظمتوں کو ظاہر فرماتا اور آپ کو راضی فرماتا ہے۔ (2)
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے ہیں اور انہی کے الفاظ میں ہم بھی عرض گزار ہیں کہ :
ہم ہیں اُن کے وہ ہیں تیرے تو ہوئے ہم تیرے		اس سے بڑھ کر تِری سمت اور وسیلہ کیا ہے
ان کی امّت میں بنایا انھیں رحمت بھیجا			یوں نہ فرما کہ ترا رحم میں دعویٰ کیا ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…مسلم، کتاب الایمان، باب دعاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم لامتہ۔۔۔ الخ، ص۱۳۰، الحدیث: ۳۴۶(۲۰۲)۔
2…مرقاۃ المفاتیح، کتاب الفتن، باب الحوض والشفاعۃ، الفصل الاول، ۹/۵۳۰، تحت الحدیث: ۵۵۷۷، ملخصاً۔