Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
59 - 558
ترجمۂکنزالایمان: اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی غلبے والا، حکمت والا ہے۔ 
  { اِنۡ تُعَذِّبْہُمْ: اگر تو انہیں عذاب دے۔}حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو معلوم ہوگا کہ قوم میں بعض لوگ کفر پر مصر رہے، بعض شرفِ ایمان سے مشّرف ہوئے اس لئے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں یہ عرض ہے کہ’’ ان میں سے جو کفرپر قائم رہے اُن پر تو عذاب فرمائے تو بالکل حق و بجا اور عدل وانصاف ہے کیونکہ انہوں نے حجت تمام ہونے کے بعد کفراختیار کیا اور جو ایمان لائے انہیں تو بخشے تو تیرا فضل وکرم ہے اور تیرا ہر کام حکمت ہے۔ 
امتِ مرحوم کے حق میں دعا:
	نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے بھی اس آیتِ مبارکہ کو پڑھ کراللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنی امت کیلئے دعا فرمائی چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’  سرکارِدو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے قرآن پاک میں سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس قول کی تلاوت فرمائی ’’رَبِّ اِنَّہُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ فَمَنۡ تَبِعَنِیۡ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡ۔۔۔الآیہ ‘‘ اے میرے رب!ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے، جو شخص میری پیروی کرے گا وہ میرے راستہ پر ہے۔‘‘ اور وہ آیت پڑھی جس میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہ قول ہے’ ’ اِنۡ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ ﴿۱۱۸﴾ ‘‘ 
 اے اللہ! اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے۔پھر نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے دست ِدعا بلند کر دئیے اور روتے ہوئے عرض کرنے لگے :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میری امت ، میری امت۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرئیل! محمد کے پاس جاؤ اور ان سے معلوم کرو (حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے) کہ ان پر اس قدر گریہ کیوں طاری ہے۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حضرت