Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
394 - 558
 ورنہ ان کا انجام بھی انہی جیساہو گا۔ (1)
{ فَمَا کَانُوۡا لِیُؤْمِنُوۡا بِمَا کَذَّبُوۡا مِنۡ قَبْلُ:تووہ اس قابل نہ ہوئے کہ اس پر ایمان لے آتے جسے پہلے جھٹلا چکے تھے۔} اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے متعدد اقوال نقل کئے ہیں۔
(1)… حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں :اس کا معنی یہ ہے کہ عالمِ ارواح میں میثاق کے دن وہ لوگ جس چیز کو دل سے جھٹلا چکے تھے کہ صرف زبان سے ’’ بَلٰی‘‘ کہہ کر اقرار کر لیا اوردل سے انکار کیا تھا اسے نبی سے سن کر بھی نہ مانے بلکہ اسی انکار پر قائم رہے۔ (2)
(2)…امام مجاہد رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر ہم ان لوگوں کوہلاک کرنے اور عذاب کا مُعایَنہ کروانے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں بھیج دیتے تب بھی وہ اس چیز کو نہ مانتے جسے وہ پہلی زندگی میں جھٹلا چکے تھے۔(3)
(3)… نبیوں کے معجزات دیکھنے سے پہلے جس چیز کو جھٹلا چکے تھے اسے معجزات دیکھ کر بھی نہ مانے۔ (4)
(4)… انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تشریف آوری پر پہلے دن جس کا انکار کر چکے تھے آخر تک اسے نہ مانے جھٹلاتے ہی رہے۔ (5)
{ کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللہُ عَلٰی قُلُوۡبِ الْکٰفِرِیۡنَ:اللہ یونہی کا فروں کے دلوں پرمہر لگادیتا ہے۔}ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کے کفار کے دلوں پر مہر لگا دی اور انہیں ہلاک کر دیا اسی طرح آپ کی قوم کے ان کافروں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتاہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ لکھ چکا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (6)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۲/۱۲۳۔
2…تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۵/۳۲۴۔
3 …خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۲/۱۲۳۔
4…تفسیر قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۴/۱۸۴، الجزء السابع۔
5…مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ص۳۷۷۔
6…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۲/۱۲۳۔