بِالْبَیِّنٰتِۚ فَمَا کَانُوۡا لِیُؤْمِنُوۡا بِمَا کَذَّبُوۡا مِنۡ قَبْلُ ؕ کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللہُ عَلٰی قُلُوۡبِ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: یہ بستیاں ہیں جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے تو وہ اس قابل نہ ہوئے کہ وہ اس پر ایمان لاتے جسے پہلے جھٹلاچکے تھے اللہ یونہی چھاپ لگادیتا ہے کافروں کے دلوں پر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ بستیاں ہیں جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کرتشریف لائے تووہ اس قابل نہ ہوئے کہ اس پر ایمان لے آتے جسے پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اللہ یونہی کا فروں کے دلوں پرمہر لگادیتا ہے۔
{ تِلْکَ الْقُرٰی:یہ بستیاں ہیں۔} اس آیت میں خطاب حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے ہے اور بستیوں سے وہ پانچ بستیاں مراد ہیں کہ جن کے احوال کا ذکر ما قبل آیات میں گزرا یعنی قومِ نوح،قومِ ہود،قومِ صالح، قومِ لوط اور قومِ شعیب کی بستیاں۔ (1)
اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، ہم تمہیں ان بستیوں اور ان میں رہنے والوں کے بارے میں بتاتے ہیں ، ان کے حالات اور ان کے اپنے رسولوں کے ساتھ کئے گئے معاملات کی خبر دیتے ہیں تاکہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ جان لو کہ ہم رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی ان کے دشمن کفار کے مقابلے میں کیسی مدد فرماتے ہیں اور کفار کو ان کے کفرو عناد اور سرکشی کی سزا میں کس طرح ہلاک کرتے ہیں ، لہٰذا مشرکینِ مکہ کو چاہئے کہ پچھلی قوموں کے حالات سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی سرکشی سے باز آجائیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…البحر المحیط، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۴/۳۵۳، تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۵/۳۲۴، ملتقطاً۔