تو رب تعالیٰ نے دریافت کیا (حالانکہ وہ سب جانتا ہے) ’’تم کیوں روتے ہو؟ انہوں نے عرض کی:اے رب عَزَّوَجَلَّ! ہم تیری خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہیں۔ رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تم اسی حالت پر رہنا (یعنی کبھی مجھ سے بے خوف مت ہونا)۔ (1)
(3)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک بار میں نے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو ایک باغ کی دیوار کے پاس دیکھا کہ وہ اپنے آپ سے فرما رہے تھے ’’واہ ! لوگ تجھے امیر المؤمنین کہتے ہیں اور تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے نہیں ڈرتا ، اگر تونے رب تعالیٰ کا خوف نہ رکھا تو اس کے عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔ (2)
(4)…حضرت ربیع بن خیثم رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی صاحب زادی نے ان سے کہا :ابا جان! میں دیکھتی ہوں کہ سب لوگ سوتے ہیں اور آپ نہیں سوتے اس کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا: اے میری نورِ نظر! تیرا باپ رات کو سونے سے ڈرتا ہے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کااشارہ اوپر مذکور آیت کی طرف تھا۔ (3)
(5)… حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُچالیس برس تک نہیں ہنسے ، جب ان کو بیٹھے ہوئے دیکھا جاتا تو یوں معلوم ہوتا گویا ایک قیدی ہیں جسے گردن اڑانے کے لئے لایا گیا ہو، اور جب گفتگو فرماتے تو انداز ایسا ہوتا گویا آخرت کو آنکھوں سے دیکھ دیکھ کر بتا رہے ہیں ، اور جب خاموش رہتے تو ایسا محسوس ہوتا گویا ان کی آنکھوں میں آگ بھڑک رہی ہے ، جب اُن سے اس قدر غمگین وخوف زدہ رہنے کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا ’’مجھے اس بات کا خوف ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرے بعض ناپسندیدہ اعمال کو دیکھ کر مجھ پر غضب فرمایا اور یہ فرما دیا کہ جاؤ! میں تمہیں نہیں بخشتا تو میرا کیا بنے گا؟ (4)
اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین
اَوَلَمْ یَہۡدِ لِلَّذِیۡنَ یَرِثُوۡنَ الۡاَرْضَ مِنۡۢ بَعْدِ اَہۡلِہَاۤ اَنۡ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لَا یَسْمَعُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…احیاء العلوم، کتاب الخوف والرجائ، بیان احوال الانبیاء والملائکۃ۔۔۔ الخ، ۴/۲۲۳۔
2…کیمیائے سعادت، رکن چہارم: منجیات، اصل ششم، مقام سیم، ۲/۸۹۲۔
3…مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۹، ص۳۷۷۔
4…احیاء العلوم، کتاب الخوف والرجائ، بیان احوال الصحابۃ والتابعین۔۔۔ الخ، ۴/۲۳۱۔