Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
390 - 558
 ترجمۂکنزالایمان: کیا اللہ کی خفی تدبیر سے نڈر ہیں تو اللہکی خفی تدبیر سے نڈر نہیں ہوتے مگر تباہی والے۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا وہ اللہکی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہیں تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے صرف تباہ ہونے والے لوگ ہی بے خوف ہوتے ہیں۔ 
{ اَفَاَمِنُوۡا مَکْرَ اللہِ:کیا وہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہیں۔} مکر کے لغوی معنی ہیں ’’خفیہ تدبیر‘‘  جبکہ عام محاورہ میں دھوکہ اور فریب کو’’ مکر‘‘ کہا جاتا ہے، یہاں اس کا لغوی معنی یعنی خفیہ تدبیر مراد ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے خاص غضب کا ذکر ہے چنانچہ فرمایا گیا ’’کیا کفار اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہیں اور اس کے ڈھیل دینے اور دُنیوی نعمتیں دینے پر مغرور ہو کر اس کے عذاب سے بے فکر ہوگئے ہیں سن لو! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے صرف تباہ ہونے والے لوگ ہی بے خوف ہوتے ہیں اور اس کے مخلص بندے اس کا خوف رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ہر وقت ڈرتے رہنا چاہئے :
	اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے خوف کا دل سے نکل جانا سخت نقصان کا سبب ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّکی ڈھیل یا اس کا کسی بندے کو گناہ پر نہ پکڑنا یہ اس کی خفیہ تدبیر ہے لہٰذا ہر وقت اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہنا چاہئے۔ ترغیب کے لئے چند حکایات پیش کی جاتی ہیں۔
(1)…حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام ایک مرتبہ بارگاہِ رسالت میں روتے ہوئے حاضر ہوئے تو رحمت ِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے دریافت کیا’’اے جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام! تمہیں کس چیز نے رلا دیا؟ انہوں نے عرض کی: جب سے اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا فرمایا ہے ، میری آنکھیں اُس وقت سے کبھی اس خوف کے سبب خشک نہیں ہوئیں کہ مجھ سے کہیں کوئی نافرمانی نہ ہوجائے اور میں جہنم میں ڈال دیا جاؤں۔ (1)
(2)… جب ابلیس کے مردود ہونے کا واقعہ ہوا تو حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیلعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام رونے لگے 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۱/۵۲۱، الحدیث: ۹۱۵۔