دوسری خباثت یہ ہے کہ ا س کی وجہ سے نسلِ انسانی میں اضافہ رک جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نسلِ انسانی میں اضافے کا یہ طریقہ مقرر فرمایا ہے کہ مرد اور عورت دونوں میں شہوت رکھی اور اس شہوت کی تسکین کے لئے جائز عورت کو ذریعہ بنایا، جب یہ اپنی شہوت پوری کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں عورت حاملہ ہوجاتی اور کچھ عرصے بعد اس کے ہاں ایک انسان کی پیدائش ہوتی ہے اور اس طرح انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اب اگر شہوت کو اس کے اصل ذریعے کی بجائے کسی اور ذریعے سے تسکین دی جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ نسلِ انسانی میں اضافہ رک جائے گا اور اس صورت میں انتہائی سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، جیسے وہ ممالک جن میں لواطت کے عمل کو رواج دیا گیا ہے آج ان کا حال یہ ہو چکا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے لوگوں کو اپنے ہاں بلوا کر اور انہیں آسائشیں دے کر اپنے ملک کے لوگوں کی تعداد بڑھانے پر مجبور ہیں۔
تیسری خباثت یہ ہے کہ ا س عمل کی وجہ سے انسانیت ختم ہو جاتی ہے کیونکہ مرد کا عورت سے اپنی شہوت کو پورا کرنا جانوروں کے شہوانی عمل سے مشابہت رکھتا ہے لیکن مرد و عورت کے اس عمل کو صرف اس لئے اچھا قرار دیا گیا ہے کہ وہ اولاد کے حصول کا سبب ہے اور جب کسی ایسے طریقے سے شہوت کو پورا کیا جائے جس میں اولاد حاصل ہونا ممکن نہ ہو تو یہ انسانیت نہ رہی بلکہ نری حیوانیت بن گئی اور کسی کا مرتبہِ انسانی سے گر کر حیوانوں میں شامل ہونا عقلی اعتبار سے انتہائی قبیح ہے۔
چوتھی خباثت یہ ہے کہ لواطت کا عمل ذلت و رسوائی اور آپس میں عداوت اور نفرت پیدا ہونے کا ایک سبب ہے جبکہ شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرنا عزت کاذریعہ اور ان میں الفت و محبت بڑھنے کا سبب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ مِنْ اٰیٰتِہٖۤ اَنْ خَلَقَ لَکُمۡ مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ اَزْوٰجًا لِّتَسْکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَ جَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کی طرف آرام پاؤ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔
اور عقلِ سلیم رکھنے والے کے نزدیک وہ عمل ضرور خبیث ہے جو ذلت و رسوائی اور نفرت و عداوت پیدا ہونے کا سبب بنے۔
طبی طور پر ا س کی خباثت کے لئے یہی کافی ہے کہ انسان کی قوتِ مُدافعت ختم کر کے اسے انتہائی کَرب کی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روم:۲۱۔