خنزیر کی شکل میں بدل دیا جاتا ہے۔(1)
(9)… حضرت سیدنا حسن بن ذکوان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں جس کا خلاصہ ہے: ’’ خوبصورت لڑکوں کے ساتھ نہ بیٹھا کرو کیونکہ ان کی صورتیں کنواری عورتوں کی صورتوں جیسی ہوتی ہیں نیز وہ عورتوں سے زیادہ فتنہ میں ڈالنے والے ہیں۔ (2)
(10)…ایک تابعی بزرگ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’میں نوجوان سالِک (یعنی عابد و زاہد نوجوان )کے ساتھ بے ریش لڑکے کے بیٹھنے کو سات درندوں سے زیادہ خطرناک سمجھتا ہوں۔ (3)
(11)…حضرت سیدنا سفیان ثوری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ (جن کی معرفت، علم، زُہدوتقویٰ اور نیکیوں میں پیش قدمی مشہورو معروف ہے) ایک حمام میں داخل ہوئے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس ایک خوبصورت لڑکا آگیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’اسے مجھ سے دور کرو! اسے مجھ سے دور کرو! کیونکہ میں ہر عورت کے ساتھ ایک شیطان دیکھتا ہوں جبکہ ہر لڑکے کے ساتھ دس (10) سے زیادہ شیطان دیکھتا ہوں۔ (4)
(12)…حضرت امام احمد بن حنبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا، اس کے ساتھ ایک خوبصورت بچہ بھی تھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا ’’تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ اس نے عرض کی:’’یہ میرا بھانجا ہے۔ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا: ’’آئندہ اسے لے کر میرے پاس نہ آنا اور اسے ساتھ لے کر راستے میں نہ چلا کر تاکہ اسے اور تمہیں نہ جاننے والے بدگمانی نہ کریں۔ (5)
لواطت کی عقلی اور طبی خباثتیں :
لواطت کا عمل عقلی اور طبی دونوں اعتبار سے بھی انتہائی خبیث ہے، عقلی اعتبار سے ا س کی ایک خباثت یہ ہے کہ یہ عمل فطرت کے خلاف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فطری اعتبار سے مرد کو عمل کرنے والا اور عورت کو خاص مقام میں عمل قبول کرنے والا بنایا ہے اور لواطت انسان تو انسان جانوروں کی بھی فطرت کے خلاف ہے کہ جانور بھی شہوت پوری کرنے کے لئے نر کی طرف یا مادہ کے خاص مقام کے علاوہ کی طرف نہیں بڑھتا، اس لئے لواطت کرنے والا اپنی فطرت کے خلاف چل رہا ہے اور فطرت کے خلاف چلنا عقلی اعتبار سے انتہائی قبیح ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…کتابُ الکبائر، الکبیرۃ الحادیۃ عشرۃ، اللواط، ص۶۳۔
2…شعب الایمان، السابع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴/۳۵۸، روایت نمبر: ۵۳۹۷۔
3…شعب الایمان، السابع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴/۳۵۸، روایت نمبر: ۵۳۹۶۔
4…شعب الایمان، السابع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴/۳۵۹، روایت نمبر: ۵۴۰۴۔
5…کتاب الکبائر، الکبیرۃ الحادیۃ عشرۃ، اللواط، ص۶۵۔