Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
359 - 558
 اس سے انکار ہے۔پس ناقہ کی کُوچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح ہم پر لے آؤ جس کا تم وعدہ دے رہے ہو اگر تم رسول ہو۔تو انہیں زلزلہ نے ا ٓلیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے رہ گئے ۔تو صالح نے ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچا دی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرضی ہی نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور قومِ ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا۔ صالح نے فرمایا :اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن نشانی آگئی۔ تمہارے لئے نشانی کے طور پر اللہ کی یہ اونٹنی ہے۔ توتم اسے چھوڑے رکھو تاکہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگاؤ ورنہ تمہیں درد ناک عذاب پکڑ لے گا۔اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قومِ عاد کے بعد جانشین بنایا اور اس نے تمہیں زمین میں ٹھکانا دیا ، تم نرم زمین میں محلات بناتے تھے اور پہاڑوں کو تراش کر مکانات بناتے تھے تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔ اس کی قوم کے متکبر سردارکمزور مسلمانوں سے کہنے لگے: کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کا رسول ہے؟ انہوں نے کہا: بیشک ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جس کے ساتھ انہیں بھیجا گیا ہے۔متکبر بولے : بیشک ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں جس پر تم ایمان لائے ہو۔پس (کافروں نے) اونٹنی کی ٹانگوں کی رگوں کو کاٹ دیا اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے: اے صالح! اگر تم رسول ہو تو ہم پر وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں وعیدیں سناتے رہتے ہو۔ تو انہیں زلزلے نے پکڑ لیا تو وہ صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔  تو صالح نے ان سے منہ پھیرلیا اور فرمایا: اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔
{وَ اِلٰی ثَمُوۡدَ:اور قومِ ثمود کی طرف۔} ثمود بھی عرب کا ہی ایک قبیلہ تھا ۔ یہ لوگ ثمود بن رام بن سام بن نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں تھے اور حجاز و شام کے درمیان سرزمین حِجْرمیں رہتے تھے۔ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے والد کا نام عبید بن آسف بن ماسح بن عبید بن حاذر ابن ثمود ہے۔ قومِ ثمود قومِ عاد کے بعد ہوئی اور حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد ہیں۔ (1)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۷۳، ۳/۱۸۹-۱۹۰