Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
354 - 558
(2)… اہلِ علم و کمال کو ضرورت کے موقع پر اپنے منصب و کمال کا اظہار جائز ہے ۔
اَوَعَجِبْتُمْ اَنۡ جَآءَکُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنۡکُمْ لِیُنۡذِرَکُمْ ؕ وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذْجَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مِنۡۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوۡحٍ وَّزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَصۜۡطَۃً ۚ فَاذْکُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۶۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کیا تمہیں اس کا اچنبھا ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں کے ایک مرد کی معرفت کہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کا جانشین کیا اور تمہارے بدن کا پھیلاؤ بڑھایا تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو کہ کہیں تمہارا بھلا ہو۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تمہیں میں سے ایک مرد کے ذریعے نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قومِ نوح کے بعد جانشین بنایا اور تمہاری جسامت میں قوت اور وسعت زیادہ کی تو اللہ کی نعمتیں یاد کروتا کہ تم فلاح پاؤ۔ 
{وَزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَصۜۡطَۃً:اور تمہاری جسامت میں قوت اور وسعت زیادہ کی۔} اللہ تعالیٰ نے قومِ عاد کو سلطنت اور بدنی قوت عطا فرمائی تھی ،چنانچہ شداد ابنِ عاد جیسا بڑا بادشاہ انہیں میں ہوا۔ یہ بہت لمبے قد والے اور بڑے بھاری ڈیل ڈول والے تھے۔ 
قَالُوۡۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللہَ وَحْدَہٗ وَنَذَرَ مَاکَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا ۚ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۷۰﴾ قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمْ رِجْسٌ وَّغَضَبٌ ؕ اَتُجٰدِلُوۡنَنِیۡ فِیۡۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمْ وَ