قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوْمِہٖۤ اِنَّا لَنَرٰىکَ فِیۡ سَفَاہَۃٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکٰذِبِیۡنَ ﴿۶۶﴾ قَالَ یٰقَوْمِ لَیۡسَ بِیۡ سَفَاہَۃٌ وَّلٰکِنِّیۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۷﴾اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیۡ وَ اَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیۡنٌ ﴿۶۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اس کی قوم کے سردار بولے بیشک ہم تمہیں بیوقوف سمجھتے ہیں اور بیشک ہم تمہیں جھوٹوں میں گمان کرتے ہیں۔کہا اے میری قوم مجھے بے وقوفی سے کیا علاقہ میں تو پروردگارِ عالم کا رسول ہوں۔تمہیں اپنے رب کی رسالتیں پہنچاتا ہوں اور تمہارا معتمد خیرخواہ ہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس کی قوم کے کافر سردار بولے ،بیشک ہم تمہیں بیوقوف سمجھتے ہیں اور بیشک ہم تمہیں جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔(ہود نے) فرمایا: اے میری قوم! میرے ساتھ بے وقوفی کا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو ربُّ العالمین کا رسول ہوں۔میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور میں تمہارے لئے قابلِ اعتماد خیرخواہ ہوں۔
{لَیۡسَ بِیۡ سَفَاہَۃٌ:میرے ساتھ بے وقوفی کا کوئی تعلق نہیں۔}کافروں نے گستاخی کرکے حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مَعَاذَاللہ بیوقوف کہا، جس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بڑے تحمل سے جواب دیا کہ بیوقوفی کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اورا س کی وجہ بالکل واضح ہے کہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کامل عقل والے ہوتے ہیں اور ہمیشہ ہدایت پر ہوتے ہیں۔تمام جہان کی عقل نبی کی عقل کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے سمندر کا ایک قطرہ کیونکہ نبی تو وحی کے ذریعے اپنے ربعَزَّوَجَلَّ سے علم و عقل حاصل کرتا ہے اور اس چیز کے برابر کوئی دوسری چیز کا ہونا محال ہے۔
سورہِ اعراف کی آیت نمبر 67اور 68 سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے،
(1)… جاہل اور بیوقوف لوگوں کی بد تمیزی و جہالت پر بُردباری کا مظاہرہ کرنا سنت ِ انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہے ۔