Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
329 - 558
جنتیوں اور جہنمیوں کی علاماتـ:
	اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بندوں کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
 ’’ لِلَّذِیۡنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِیَادَۃٌ ؕ وَلَایَرْہَقُ وُجُوۡہَہُمْ قَتَرٌ وَّلَاذِلَّۃٌ ؕ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۶﴾‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:بھلائی کرنے والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زیادہ اور ان کے منہ پر نہ سیاہی چھائی ہوگی اور نہ ذلت،یہی جنت والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
	اور کافر و گنہگار بندوں کے بارے میں ارشاد فرمایا: 
’’ وَالَّذِیۡنَ کَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَۃٍۭ بِمِثْلِہَا ۙ وَتَرْہَقُہُمْ ذِلَّۃٌ ؕ مَالَہُمۡ مِّنَ اللہِ مِنْ عَاصِمٍ ۚ کَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوۡہُہُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیۡلِ مُظْلِمًا ؕ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۷﴾ ‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور جنہوں نے برائیوں کی کمائی کی تو برائی کا بدلہ اسی کے برابر ہے اور ان پر ذلت چھائی ہوگی، انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، گویا ان کے چہروں کو اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ وہی دوزخ والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
دور سے سننا شرک نہیں :
	اس آیت میں فرمایا گیا اعراف والے جنتیوں کو پکاریں گے ۔جنت و جہنم میں لاکھوں میل کا فاصلہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایک دوسرے کی آواز سن لیں گے ، اس سے معلوم ہوا کہ دور سے سن لینا کوئی ایسی بات نہیں جو مخلوق کیلئے ماننے سے شرک لازم آئے کیونکہ شرک کی حقیقت دنیا و آخرت کے اعتبار سے مختلف نہیں ہوتی یعنی یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ دنیا میں ایک چیز شرک ہو لیکن قیامت میں وہ شرک نہ رہے، لہٰذا جو لوگ انبیاء و اولیاء کے دور سے سننے کے عقیدے پر شرک کے فتوے دیتے ہیں انہیں غور کرلینا چاہیے بلکہ خود قرآنِ پاک میں ہے کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دور سے چیونٹی کی باتیں سن لیں ، چنانچہ فر مایا:
 ’’ فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنۡ قَوْلِہَا ‘‘ (3) 
ترجمۂکنزُالعِرفان: ’’چیونٹی کی آواز سن کر سلیمان مسکرا دئیے‘‘
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…یونس:۲۶۔
2…یونس:۲۷۔
3…النمل:۱۹