{ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ:پھر ایک ندا دینے والا پکارے گا ۔}پکارنے والے حضرت اسرافیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں یا دوسرا فرشتہ جس کی یہ ڈیوٹی ہوگی اور ظالمین سے مراد کفار ہیں جیسا کہ اگلی آیت سے معلوم ہو رہا ہے۔
الَّذِینَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَیَبْغُوۡنَہَا عِوَجًا ۚ وَہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ کٰفِرُوۡنَ ﴿ۘ۴۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اورا سے کجی چاہتے ہیں اور آخرت کا انکار رکھتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اسے ٹیڑھا (کرنا ) چاہتے ہیں اور وہ آخرت کا انکارکرنے والے ہیں۔
{ الَّذِینَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ:جواللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔} یہاں اللہ عَزَّوَجَلَّنے جہنمیوں کو ظالم قرار دیا اور ان کے اوصاف یہ بیان کئے کہ وہ دوسروں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے راستے سے روکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین میں تبدیلی چاہتے تھے کہ دینِ الٰہی کو بدل دیں اور جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا ہے اس میں تغیر ڈال دیں۔ (1) تیسرا وہ قیامت کا انکار کرتے تھے۔
مسلمان کہلانے والے بے دین لوگوں کا انجام:
یہاں یہ وعیدیں بطورِ خاص کافروں کے متعلق ہیں لیکن جو مسلمان کہلانے والے بھی دوسروں کو دین پر عمل کرنے سے منع کرتے ہیں اور وہ لوگ جو دین میں تحریف و تبدیلی چاہتے ہیں جیسے بے دین و ملحدلوگ جو دین میں تحریف و تغییر کی کوششیں کرتے رہتے ہیں ایسے لوگ بھی کوئی کم مجرم نہیں بلکہ وہ بھی جہنم کے مستحق ہیں۔
جنتیوں اور جہنمیوں کے باہمی مکالمے:
یہاں آیت ِ مبارکہ میں جیسا مکالمہ بیان کیا گیا ہے جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان ایسے مکالمے قرآنِ پاک میں اور جگہ بھی مذکور ہیں چنانچہ سورۂ صافّات میں ہے:
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۴۵، ۲/۹۵۔