رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ کو بھی نہیں ؟ ارشاد فرمایا: ’’مجھے بھی نہیں ،مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت میں ڈھانپ لے، پس تم اخلاص کے ساتھ عمل کرو اور میانہ روی اختیار کرو۔ (1)البتہ بہت سی آیات میں اعمال کو بھی جنت میں داخلے کا سبب قرار دیا گیا ہے تو دونوں طرح کی آیات و احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ جنت میں داخلے کا حقیقی سبب تواللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل ہے لیکن ظاہری سبب نیک اعمال ہیں۔
وَنَادٰۤی اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنۡ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَہَلْ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا ؕ قَالُوۡا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیۡنَہُمْ اَنۡ لَّعْنَۃُ اللہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جنت والوں نے دوزخ والوں کو پکارا کہ ہمیں تو مل گیا جو سچا وعدہ ہم سے ہمارے رب نے کیا تھا تو کیا تم نے بھی پایا جو تمہارے رب نے سچا وعدہ تمہیں دیا تھا بولے ہاں اور بیچ میں منادی نے پکار دیا کہ اللہ کی لعنت ظالموں پر ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جنتی جہنم والوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہمارے رب نے جو ہم سے وعدہ فرمایا تھا ہم نے اسے سچا پایا تو کیا تم نے بھی اس وعدے کو سچا پایا جو تم سے تمہارے رب نے کیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہاں ،پھر ایک ندا دینے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ ظالموں پراللہ کی لعنت ہو۔
{ وَنَادٰۤی اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبَ النَّارِ:اور جنتی جہنم والوں کو پکار کر کہیں گے۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو جنت والے جہنمیوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہمارے رب عَزَّوَجَلَّنے جو ہم سے وعدہ فرمایا تھا اور رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جو فرمایا تھا کہ ایمان و طاعت پر اجرو ثواب پاؤگے ہم نے تو اسے سچا پایا،
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت، ۴/۱۳، الحدیث: ۵۶۷۳۔