{ وَنُوۡدُوۡۤااَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوۡرِثْتُمُوۡہَا:اورانہیں نداکی جائے گی کہ یہ جنت ہے، تمہیں اس کا وارث بنادیا گیا۔} مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوں گے تو ایک ندا کرنے والا پکارے گا: تمہارے لئے زندگانی ہے کبھی نہ مرو گے، تمہارے لئے تندرستی ہے کبھی بیمار نہ ہوگے، تمہارے لئے عیش ہے کبھی تنگ حال نہ ہوگے۔(1)
جنت کو دو وجہ سے میراث فرمایا گیا۔ ایک یہ کہ کفار کے حصہ کی جنت بھی وہ ہی لیں گے یعنی کافروں کے ایمان لانے کی صورت میں جو جنتی محلات ان کیلئے تیار تھے وہ ان کے کفر کی وجہ سے اہلِ ایمان کو دیدئیے جائیں گے تو یہ گویا ان کی میراث ہوئی ۔ دوسرے یہ کہ جیسے میراث اپنی محنت و کمائی سے نہیں ملتی اسی طرح جنت کا ملنا بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے ہوگا، اپنے اعمال تو ظاہری سبب ہوں گے اور وہ بھی حقیقتاًجنت میں داخلے کا سبب بننے کے قابل نہیں ہوں گے کیونکہ ہمارے اعمال تو ہیں ہی ناقص، یہ تو صرف سابقہ نعمتوں کا شکرانہ بن جائیں یا جہنم سے چھٹکارے کا ذریعہ بن جائیں تو بھی بہت ہے۔ ان کے بھروسے پر جنت کی طمع تو خود فریبی ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل:
یہاں مفسرین نے ایک بہت پیاری بات ارشاد فرمائی اور وہ یہ کہ جنتی جنت میں داخل ہوں گے تو کہیں گے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ہے جس نے ہمیں ہدایت دی یعنی وہ اپنے عمل کی بات نہیں کریں گے بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل کی بات کریں گے اور اللہ عَزَّوَجَلَّفرمائے گا کہ تمہیں تمہارے اعمال کے سبب اس جنت کا وارث بنادیا گیا۔ گویا بندہ اپنے عمل کو ناچیز اور ہیچ سمجھ کر صرف اللہ کریم کے فضل پر بھروسہ کرتا ہے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فضل سے اس کے ناقص عمل کو بھی شرفِ قبولیت عطا فرماکر قابلِ ذکر بنادیتا ہے اور فرماتا ہے کہ تمہیں تمہارے اعمال کے سبب جنت دیدی گئی۔
جنت میں داخلے کا سبب:
یہاں مفسرین نے یہ بحث بھی فرمائی ہے کہ جنت میں داخلے کا سبب کیا ہے،اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل یا ہمارے اعمال۔ تو حقیقت یہی ہے کہ جنت میں داخلے کا سبب تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل ہی ہے جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے:
’’ فَضْلًا مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیۡمُ ﴿۵۷﴾‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:تمہارے رب کے فضل سے، یہی بڑی کامیابی ہے۔
اور یہی مضمون حدیث ِ مبارک میں بھی ہے، چنانچہ بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب فی دوام نعیم اہل الجنۃ۔۔۔ الخ، ص۱۵۲۱، الحدیث: ۲۲(۲۸۳۷)۔
2…الدخان: ۵۷۔