تکبر کی بہت بڑی قباحت:
اس سے معلوم ہو اکہ تکبر کی بہت بڑی قباحت یہ ہے کہ آدمی جب تکبر کا شکار ہوتا ہے تو نصیحت قبول کرنا اس کیلئے مشکل ہوجاتا ہے ،چنانچہ قرآنِ پاک میں ایک جگہ منافق کے بارے میں فرمایا گیا:
’’وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُ اتَّقِ اللہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالۡاِثْمِ فَحَسْبُہٗ جَہَنَّمُؕ وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ﴿۲۰۶﴾‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے ضد مزید گناہ پر ابھارتی ہے توایسے کو جہنم کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا ٹھکاناہے۔
اور حدیثِ مبارک میں ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننا تکبر ہے (2)۔ (3)
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ کَذِبًا اَوْکَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ یَنَالُہُمْ نَصِیۡبُہُمۡ مِّنَ الْکِتٰبِ ؕ حَتّٰۤی اذَا جَآءَتْہُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَہُمْ ۙ قَالُوۡۤا اَیۡنَ مَاکُنۡتُمْ تَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ ؕ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا وَ شَہِدُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ اَنَّہُمْ کَانُوۡا کٰفِرِیۡنَ ﴿۳۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیتیں جھٹلائیں انہیں ان کے نصیب کا لکھا پہونچے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے ان کی جان نکالنے آئیں تو ان سے کہتے ہیں کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہتے ہیں وہ ہم سے گم گئے اور اپنی جانوں پر آپ گواہی دیتے ہیں کہ وہ کافر تھے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بقرہ:۲۰۶۔
2…مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ، ص۶۰، الحدیث: ۱۴۷(۹۱)۔
3…تکبر کی مزید قباحتیں جاننے کے لئے کتاب’’تکبر‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ فرمائیں۔