Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
310 - 558
ترجمۂکنزالایمان: اے آدم کی اولاد اگر تمہارے پاس تم میں کے رسول آئیں میری آیتیں پڑھتے تو جو پرہیزگاری کرے اور سنورے تو اس پر نہ کچھ خوف اور نہ کچھ غم۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے آدم کی اولاد! اگر تمہارے پاس تم میں سے وہ رسول تشریف لائیں جو تمہارے سامنے میری آیتوں کی تلاوت کریں تو جو پرہیزگاری اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا تو ان پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
{ اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنۡکُمْ:اگر تمہارے پاس تم میں سے رسول تشریف لائیں۔} یہاں اسی سابقہ تَناظُر میں اولادِ آدم سے خطاب ہے کہ اے اولادِ آدم! تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول تشریف لائیں گے جو تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب پڑھ کر سنائیں گے اُسے سن کرجو پرہیزگاری اختیار کرے گا اور ممنوعات سے بچتے ہوئے عبادت و اطاعت کا راستہ اختیار کرے گا تو قیامت کے دن اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذا ب کا نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ دنیا میں کچھ چھوڑ دینے کی وجہ سے غمگین ہوگا بلکہ قیامت کے دن حسب ِ مرتبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے بہرہ وَر ہوں گے ۔ چنانچہ ا س دن کتنے ہی لوگ نور کے منبروں پر ہوں گے، جیسا کہ سرکارِ دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت کرنے والوں کیلئے (قیامت کے دن) نور کے منبر ہوں گے جن پر انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور شہداء بھی رشک کریں گے۔ (1)
وَالَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوۡا عَنْہَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۳۶﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا وہ دوز خی ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اورجو ہماری آیتیں جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلے میں تکبر کریں گے تو یہ لوگ جہنمی ہیں ، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ 
{ وَاسْتَکْبَرُوۡا عَنْہَاۤ:اور آیات کے مقابلے میں تکبر کریں گے۔} آیات کے مقابلے میں تکبر کا معنی ہے انہیں تسلیم نہ کرنا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الحب فی اللہ، ۴/۱۷۴، الحدیث: ۲۳۹۷۔