Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
306 - 558
وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، کیوں نہیں ؟ ارشاد فرمایا: ’’ ایسا نہ کرو، بلکہ روزے رکھوا ور چھوڑ بھی دیا کرو، قیام کرو اور سویا بھی کرو کیونکہ تمہارے جسم کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھ کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے اور تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے۔ تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ تم ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو کیونکہ ہر نیکی کا اجر دس گنا ہے تویہ ہمیشہ روزے رکھنے کی طرح ہو جائے گا۔ میں نے اصرار کیا تو مجھے زیادہ کی اجازت دی گئی۔ میں نے پھر عرض کی:یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، اپنے میں زیادہ طاقت پاتا ہوں۔ ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام والے روزے رکھ لو اور ان سے زیادہ نہ رکھنا۔ میں نے عرض کی: اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے روزے کس طرح تھے؟ ارشاد فرمایا: ایک دن رکھنا اور ایک دن چھوڑ دینا۔ بڑھاپے کے دنوں میں حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: کاش میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے اجازت دینے کوقبول کر لیتا۔(1)
	 حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’بے شک دین آسان ہے، اور جو اس سے مقابلہ کرے گا تو دین ہی اس پر غالب آئے گا، پس تم سیدھے رہو اور بشارت قبول کرو۔ (2)
 { قُلْ:تم فرماؤ۔} یہاں بتایا گیا کہ دنیاو آخرت کی نعمتیں اہلِ ایمان ہی کیلئے ہیں کیونکہ کفار نمک حرام ہیں اور نمک حراموں کو کچھ بھی نہیں دیا جاتا لیکن چونکہ دنیا میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ایک مہلت اور امتحان بھی رکھا ہے اس لئے کفار کو بھی اس میں سے مل جاتا ہے بلکہ مہلت کی وجہ سے مسلمانوں سے زیادہ ہی ملتا ہے ۔ اس کے بالمقابل چونکہ آخرت میں نہ امتحان ہے اور نہ مہلت، لہٰذا وہاں صرف انہی کو ملے گا جو مستحق ہوں گے اور وہ صرف مومنین ہیں۔
	 مفتی احمد یار خاں نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ معلوم ہوا کہ اچھی نعمتیں رب عَزَّوَجَلَّنے مومنوں کے لئے پیدا فرمائی ہیں ، کفار ان کے طفیل کھا رہے ہیں۔ لہٰذا جو کوئی کہے کہ فقیری اس میں ہے کہ اچھا نہ کھائے، اچھا نہ پہنے وہ جھوٹا ہے۔ اچھا کھاؤ، اچھا پہنو (لیکن اس کے ساتھ) اچھے کام کرو۔ (اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا:) 
’’ کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوۡا صٰلِحًا ‘‘ (3) 

(پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھے عمل کرو۔)
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب الصوم، باب حق الجسم فی الصوم، ۱/۶۴۹، الحدیث: ۱۹۷۵۔
2…بخاری، کتاب الایمان، باب الدین یسر، ۱/۲۶، الحدیث: ۳۹۔
3…سورۂ مؤمنون۵۱