سے بچنے کے لئے چند ناروا باتوں کا ارتکاب کرے یہ بھی شیطان کا ایک دھوکا ہے کہ اسے محتاط بننے کے پردے میں محض غیر محتاط کردیا۔ اے عزیز! مداراتِ خلق والفت وموانست اہم امور سے ہے۔ (1)
(2)… دوسرے نمبر پر ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔ جو خود تو اپنے نفس پر سختی کرنے کی خاطر لذیذ غذاؤں کو ترک کرتے ہیں لیکن دوسرا شخص اگر ان غذاؤں کو استعمال کرتا ہے تو اسے نہایت نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ بھی سراسر حرام ہے، چنانچہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : بچنا چاہے (تو) بہتر وافضل اور نہایت محمود عمل مگر اس کے ورع کا حکم صرف اسی کے نفس پر ہے نہ کہ اس کے سبب اصلِ شے کو ممنوع کہنے لگے یا جو مسلمان اُسے استعمال کرتے ہوں اُن پر طعن واعتراض کرے ،اُنہیں اپنی نظر میں حقیر سمجھے، اس سے تو اس ورع کا ترک ہزار درجہ بہتر تھا کہ شرع پر افترا اور مسلمانوں کی تشنیع وتحقیر سے تو محفوظ رہتا۔ (2)
ایک اور مقام پر فرمایا: ’’فقیر غفر اللہ تعالٰی لہ، نے آج تک اُس شکر کی صورت دیکھی، نہ کبھی اپنے یہاں منگائی، نہ آگے منگائے جانے کا قصد، مگر بایں ہمہ ہرگز ممانعت نہیں مانتا ،نہ جو مسلمان استعمال کریں اُنہیں آثم خواہ بیباک جانتا ہے ،نہ تو ورع و احتیاط کا نام بدنام کرکے عوام مومنین پر طعن کرے، نہ اپنے نفس ذلیل مہین رذیل کے لئے اُن پر ترفّع وتعلّی روا رکھے۔ (3)
(3)…تیسرے نمبر پر وہ لوگ جو گیارہویں ، میلاد شریف، بزرگوں کی فاتحہ ،عرس ،مجالس شہادت وغیرہ کی شیرینی اور سبیل وغیرہ کے شربت کو ممنوع و حرام کہتے ہیں وہ بھی اس آیت کے صریح خلاف کرکے گناہ گار ہوتے ہیں کیونکہ یہ چیزیں حلال ہیں اور انہیں ممنوع کہنا اپنی رائے کو دین میں داخل کرنا ہے اور یہی بدعت وضلالت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ یہ نہیں کہ انسان لذیذ حلال چیزیں چھوڑ دے بلکہ حرام سے بچنا تقویٰ ہے۔ حلال نعمتیں خوب کھاؤ پیو، محرمات سے بچو۔ نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ لذّات کو ترک کرنے کے معاملے میں اعتدال کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ،نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’اے عبداللہ ! مجھے بتایا گیا ہے کہ تم دن کو روزے رکھتے اور رات کو قیام کرتے ہو۔ میں نے عرض کی : یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فتاوی رضویہ، ۴/۵۲۶-۵۲۷۔
2…فتاوی رضویہ، ۴/۵۴۹۔
3…فتاوی رضویہ، ۴/۵۵۱-۵۵۲۔