فرماؤ کہ وہ ایمان والوں کے لئے ہے دنیا میں اور قیامت میں تو خاص انہیں کی ہے ہم یوہیں مفصل آیتیں بیان کرتے ہیں علم والوں کے لئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اللہ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا فرمائی ہے؟ اور پاکیزہ رزق کو (کس نے حرام کیا؟) تم فرماؤ: یہ دنیا میں ایمان والوں کے لئے ہے، قیامت میں تو خاص انہی کے لئے ہوگا۔ ہم اسی طرح علم والوں کے لئے تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں۔
{ قُلْ مَنْ حَرَّمَ:تم فرماؤ کس نے حرام کیا۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ ان جاہلوں سے فرما دیجئے جو کعبہ معظمہ کا ننگے ہو کر طواف کرتے ہیں کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لئے اسی لئے پیدا فرمائی کہ وہ اس سے زینت حاصل کریں اور نماز و طواف اور دیگر اوقات میں اسے پہنیں۔
زینت کی دو تفاسیر:
زینت کی تفسیر میں دو قول ہیں :
(1)…جمہور مفسرین کے نزدیک یہاں زینت سے مراد وہ لباس ہے جو ستر پوشی کے کام آئے۔ (1)
(2)… امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ آیت میں لفظ ’’زینت‘‘ زینت کی تمام اقسام کو شامل ہے اسی میں لباس اور سونا چاندی بھی داخل ہے۔ (2)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس چیز کو شریعت حرام نہ کرے وہ حلال ہے۔ حرمت کے لئے دلیل کی ضرورت ہے جبکہ حلت کے لئے کوئی دلیل خاص ضروری نہیں۔
{ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ:اور پاکیزہ رزق۔} یعنی اس پاکیزہ رزق اور کھانے پینے کی لذیذ چیزوں کوکس نے حرام کیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے نکالیں۔مسئلہ :آیت اپنے عموم پر ہے اور کھانے کی ہرچیز اس میں داخل ہے کہ جس کی حرمت پر نص وارد نہ ہوئی ہو۔ (3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۲، ۲/۸۹۔
2…تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۲، ۵/۲۳۰۔
3…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۲، ۲/۸۹۔