Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
302 - 558
 گوشت ہو خواہ چکنائی ہو اور اسراف نہ کرو اور وہ (یعنی اسراف) یہ ہے کہ سیر ہوچکنے کے بعد بھی کھاتے رہو یا حرام کی پرواہ نہ کرو اور یہ بھی اسراف ہے کہ جو چیزاللہ تعالیٰ نے حرام نہیں کی اس کو حرام کرلو۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا ’’کھاؤ جو چاہو اور پہنو جو چاہو اور اسراف اور تکبر سے بچتے رہو۔ (1) اس سے معلوم ہوا کہ محض ترک ِ دنیا عبادت نہیں ترک ِگناہ عبادت ہے۔ 
 قرآن کی آدھی آیت میں پورا علمِ طب:
	 خلیفہ ہارون رشید کا ایک عیسائی طبیب علمِ طب میں بہت ماہر تھا، اس نے ایک مرتبہ حضرت علی بن حسین واقد رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے کہا، علم دو طرح کا ہے (1) علمِ ادیان۔ (2) علمِ ابدان۔ اور تم مسلمانوں کی کتاب قرآنِ پاک میں علمِ طب سے متعلق کچھ بھی مذکور نہیں۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس عیسائی طبیب کو جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے ہماری کتاب کی آدھی آیت میں پوری طب کو جمع فرما دیا ہے۔ عیسائی طبیب نے حیران ہو کر پوچھا: وہ کونسی آیت ہے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ’’ وَّکُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا وَلَا تُسْرِفُوۡا‘‘ کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو۔(2)
اشیاء کی حلت و حرمت کااصول:
	 آیت میں ا س بات کی دلیل ہے کہ کھانے اور پینے کی تمام چیزیں حلال ہیں سوائے اُن کے جن پر شریعت میں دلیلِ حرمت قائم ہو کیونکہ یہ قاعدہ مقررہ مُسَلَّمَہ ہے کہ تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے مگر جس پر شارع نے ممانعت فرمائی ہو اور اس کی حرمت دلیلِ مستقل سے ثابت ہو۔
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللہِ الَّتِیۡۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ؕ قُلْ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا خَالِصَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوۡنَ ﴿۳۲﴾ 

ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی اور پاک رزق تم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۱، ۲/۱۳۱۔
2…تفسیر قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۱، ۴/۱۳۹، الجزء السابع۔