Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
300 - 558
 اُن کی اطاعت کی، اُن کے کہے پر چلے، اُن کے حکم سے کفرو معاصی کو اختیار کیا اور اس کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت یافتہ ہیں۔ عمومی گمراہی سے بدتر گمراہی یہ ہوتی ہے کہ آدمی گمراہ ہونے کے باوجود خود کو ہدایت یافتہ سمجھے۔
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمْ عِنۡدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّکُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا وَلَا تُسْرِفُوۡا ۚؕ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیۡنَ ﴿۳۱﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: اے آدم کی اولاد اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:اے آدم کی اولاد! ہر نمازکے وقت اپنی زینت لے لو اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
{ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمْ:اپنی زینت لے لو۔} یعنی نماز کے وقت صرف سترِ عورت کیلئے کفایت کرنے والا لباس ہی نہ پہنو بلکہ اس کے ساتھ وہ لباس زینت والا بھی ہو یعنی عمدہ لباس میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور حاضری دو۔ اور ایک قول یہ ہے کہ خوشبو لگانا زینت میں داخل ہے یعنی نماز کیلئے ان چیزوں کا بھی اہتمام رکھو۔  سُنت یہ ہے کہ آدمی بہتر ہیئت کے ساتھ نماز کے لئے حاضر ہو کیونکہ نماز میں رب عَزَّوَجَلَّ سے مناجات ہے تو اس کے لئے زینت کرنا اور عطر لگانا مستحب ہے جیسا کہ سترِ عورت اور طہارت واجب ہے۔ شا نِ نزول: حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’پہلے عورت بیتُ اللہ کا برہنہ ہو کر طواف کرتی تھی اور یہ کہتی تھی کہ کوئی مجھے ایک کپڑا دے گا جسے میں اپنی شرمگاہ پر ڈال لوں ، آج بعض یا کُل کھل جائے گا اور جو کھل جائے گا میں اسے کبھی حلال نہیں کروں گی، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (1)
آیت’’ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمْ‘‘ سے معلوم ہونے والے احکام:
	اس آیت میں ستر چھپانے اور کپڑے پہننے کا حکم دیا گیا اور اس میں دلیل ہے کہ سترِعورت نماز، طواف بلکہ ہر 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مسلم،کتاب التفسیر، باب فی قولہ تعالی: خذوا زینتکم عند کل مسجد، ص۱۶۱۴، الحدیث: ۲۵(۳۰۲۸)۔