اللہ تعالیٰ نے ابتداء ہی سے سعادت مند لوگوں میں سے پیدا کیا وہ قیامت کے دن سعادت مندوں میں سے اٹھے گا اگرچہ پہلے وہ برے کام کرتا رہا ہو، جیسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے کے جادو گر، یہ پہلے فرعون کے تابع تھے لیکن بعد میں فرعون کو چھوڑ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لے آئے۔ (1) اور اس آیت کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ’’ جس طرح انسان ماں کے پیٹ سے ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور ختنہ کے بغیر پیدا ہوا تھا قیامت کے دن بھی اسی طرح ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور ختنہ کے بغیر اٹھے گا۔ (2)
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’تم قیامت میں ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور ختنہ کے بغیر اٹھائے جاؤ گے۔ (3)
فَرِیۡقًا ہَدٰی وَفَرِیۡقًا حَقَّ عَلَیۡہِمُ الضَّلٰلَۃُ ؕ اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ وَیَحْسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۳۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: ایک فرقے کو راہ دکھائی اور ایک فرقے کی گمراہی ثابت ہوئی انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو والی بنایا اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ راہ پر ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ایک گروہ کو ہدایت دی اور ایک فرقے پرگمراہی ثابت ہوگئی، انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنالیا ہے اور سمجھتے یہ ہیں کہ یہ ہدایت یافتہ ہیں۔
{ فَرِیۡقًا ہَدٰی:ایک گروہ کو ہدایت دی۔} یعنی تمام لوگ ایمان نہ لائیں گے۔ کچھ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان و معرفت کی ہدایت دی اور انہیں طاعت و عبادت کی توفیق دی۔ ان کے بالمقابلکچھ لوگ ایسے ہیں جو گمراہ ہوئے اور یہ کفار ہیں ، انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّکو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنالیا ہے۔ شیطانوں کو دوست بنانے کا مطلب یہ ہے کہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۲/۱۳۰۔
2…تفسیرات احمدیہ، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۴۱۴۔
3…بخاری، کتاب احادیث الانبیائ، باب قول اللہ تعالی: واتخذ اللہ ابراہیم خلیلاً، ۲/۴۲۰، الحدیث: ۳۳۴۹۔