Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
285 - 558
الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْاٰتُہُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیۡہِمَا مِنۡ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ ؕ وَ نَادٰىہُمَا رَبُّہُمَاۤ اَلَمْ اَنْہَکُمَا عَنۡ تِلْکُمَا الشَّجَرَۃِ وَ اَقُلۡ لَّکُمَاۤ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اے آدم تو اور تیرا جوڑا جنت میں رہو تو اُس میں سے جہاں چاہو کھاؤ اور اس پیڑ کے پاس نہ جانا کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہو گے۔ پھر شیطان نے ان کے جی میں خطرہ ڈالا کہ ان پر کھول دے ان کی شرم کی چیزیں جو ان سے چھپی تھیں اور بولا تمہیں تمہارے رب نے اس پیڑ سے اسی لیے منع فرمایا ہے کہ کہیں تم دو فرشتے ہوجاؤ یا ہمیشہ جینے والے۔اور ان سے قسم کھائی کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔تو اُتار لایا انہیں فریب سے پھر جب انہوں نے وہ پیڑ چکھا ان پر اُن کی شرم کی چیزیں کھل گئیں اور اپنے بدن پر جنت کے پتے چپٹانے لگے اور انہیں ان کے رب نے فرمایا کیا میں نے تمہیں اس پیڑ سے منع نہ کیا اور نہ فرمایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو پھر اُس میں سے جہاں چاہو کھاؤ اور اُس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ حد سے بڑھنے والوں میں سے ہو جاؤگے۔ پھر شیطان نے انہیں وسوسہ ڈالا تاکہ ان پر ان کی چھپی ہوئی شرم کی چیزیں کھول دے اور کہنے لگا تمہیں تمہارے رب نے اس درخت سے اسی لیے منع فرمایا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا تم ہمیشہ زندہ رہنے والے نہ بن جاؤ۔اور ان دونوں سے قسم کھاکر کہا کہ بیشک میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ تو وہ دھوکہ دے کر ان دونوں کو اُتار لایا پھر جب انہوں نے اس درخت کا پھل کھایا تو ان کی شرم کے مقام ان پر کھل گئے اور وہ جنت کے پتے ان پر ڈالنے لگے اور انہیں ان کے رب نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا؟ اور میں نے تم سے یہ نہ فرمایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟
{ وَیٰۤاٰدَمُ اسْکُنْ اَنۡتَ: اور اے آدم! تم رہو ۔}اس آیت اور بعد والی چند آیات میں جو واقعہ بیان ہوا اس کا خلاصہ یہ ہے