جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھرا جائے گا:
اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ میں شیطان، جنات اور انسان سب ہی جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے جہنم کو بھر دے گا۔ اسی چیز کو بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لَاَمْلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾ ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بیشک میں ضرور جہنم کو جنوں اور انسانوں سے ملا کربھر دوں گا۔
اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جہنم اور جنت میں مُباحثہ ہوا تو جہنم نے کہا: مجھ میں جَبّار اور متکبر لوگ داخل ہوں گے۔ جنت نے کہا: مجھ میں کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم سے فرمایا ’’تم میرا عذاب ہو، میں جس کو چاہوں گا تمہارے ذریعے عذاب دوں گا۔ جنت سے فرمایا ’’تم میری رحمت ہو، میں تمہارے ذریعے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا اور تم میں سے ہر ایک کو پُر ہونا ہے۔ (2)
وَیٰۤاٰدَمُ اسْکُنْ اَنۡتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ فَکُلَا مِنْ حَیۡثُ شِئْتُمَا وَلَاتَقْرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۹﴾ فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیۡطٰنُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَا وٗرِیَ عَنْہُمَا مِنۡ سَوْاٰتِہِمَا وَقَالَ مَا نَہٰىکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَا مَلَکَیۡنِ اَوْ تَکُوۡنَا مِنَ الْخٰلِدِیۡنَ ﴿۲۰﴾ وَقَاسَمَہُمَاۤ اِنِّی لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾ فَدَلّٰىہُمَا بِغُرُوۡرٍۚ فَلَمَّا ذَاقَا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ہود:۱۱۹۔
2…مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب النار یدخلہا الجبارون ۔۔۔ الخ، ص۱۵۲۴، الحدیث: ۳۴(۲۸۴۶)