Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
281 - 558
 طرح ہے جو اِدھر سے اُدھر بھاگ رہا ہو اور اس کھونٹے کی حدود سے نکل نہ سکتا ہو۔(مراد یہ کہ شیطان مہاجر کو ایک بے کس و بے بس کی شکل میں پیش کرکے آدمی کو بہکاتا ہے لیکن اگر) وہ شخص اس کی بات نہیں مانتا اور ہجرت کر لیتا ہے تو شیطان اس کے جہاد کے راستے میں بیٹھ جاتا ہے، وہ اس شخص سے کہتا ہے کہ’’ کیاتم جہاد کرو گے اوریہ اپنی جان اور مال کو آزمائش میں ڈالنا ہے   اور اگر تم جہاد کے دوران مارے گئے تو تمہاری بیوی کسی اور شخص سے نکاح کر لے گی اور تمہارا مال تقسیم کر دیاجائے گا۔ لیکن وہ شخص پھر بھی شیطان کی بات نہیں مانتا اور جہاد کرنے چلا جاتا ہے ۔ رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: سو جس شخص نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر یہ حق ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کر دے اور جو مسلمان قتل کیا گیا تواللہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر اس کو جنت میں داخل کرنا ہے اور جو مسلمان غرق ہو گیا تو اسے جنت میں داخل کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر ہے اور جس مسلمان کو ا س کی سواری نے ہلاک کر دیا اس کو جنت میں داخل کرنااللہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر ہے۔(1)
شیطان سے پناہ مانگنے کی ترغیب:
	 ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا رہے اور ا س میں کسی طرح سستی اور غفلت کا مظاہرہ نہ کرے۔ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’ ’شیطان سے پناہ مانگنے میں غفلت نہ کرو کیونکہ تم اگرچہ اسے دیکھ نہیں رہے لیکن وہ تم سے غافل نہیں۔ (2) 
	امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’شیطان کے شر سے اپنے آپ کو حتی الامکان بچاؤ اور اس سلسلے میں تمہارے لئے سب سے بڑی یہی دلیل کافی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے فرمایا : 
’’ وَ قُلۡ رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنْ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ﴿ۙ۹۷﴾ وَ اَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحْضُرُوۡنِ ﴿۹۸﴾ ‘‘ (3)

ترجمۂکنزُالعِرفان:اور تم عرض کرو: اے میرے رب!میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔اور اے میرے رب!میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ وہ شیطان میرے پاس آئیں۔
	تو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ جو سارے جہان سے بہتر، سب سے زیادہ معرفت رکھنے والے، سب سے زیادہ عقلمند اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ رتبہ اور فضیلت رکھنے والے ہیں ،انہیں اس بات کی ضرورت ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…نسائی، کتاب الجہاد، ما لمن اسلم وہاجر وجاہد، ص۵۰۹، الحدیث: ۳۱۳۱۔
2…مسند الفردوس، باب لام الف، ۵/۴۷، الحدیث: ۷۴۱۷۔
3…مومنون:۹۷،۹۸۔