Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
280 - 558
ترجمۂکنزالایمان: پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا ان کے آگے اور پیچھے او ر داہنے اور بائیں سے اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر ضرور میں ان کے آگے اور ان کے پیچھے او ر ان کے دائیں اور ان کے بائیں سے ان کے پاس آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔
{ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمۡ:پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا۔} شیطان نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پھر میں ضرور بنی آدم کے آگے، پیچھے او ر ان کے دائیں ، بائیں یعنی چاروں طرف سے ان کے پاس آؤں گا اور اُنہیں گھیر کر راہِ راست سے روکوں گا تاکہ وہ تیرے راستے پر نہ چلیں اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’سامنے سے مراد یہ ہے کہ میں ان کی دنیا کے متعلق وسوسے ڈالوں گا اور پیچھے سے مراد یہ ہے کہ ان کی آخرت کے متعلق وسوسے ڈالوں گا اور دائیں سے مراد یہ ہے کہ ان کے دین میں شبہات ڈالوں گا اور بائیں سے مراد یہ ہے کہ ان کو گناہوں کی طرف راغب کروں گا۔(1) چونکہ شیطان بنی آدم کو گمراہ کرنے، شہوتوں اور قبیح افعال میں مبتلاء کرنے میں اپنی انتہائی سعی خرچ کرنے کا عزم کرچکا تھایا وہ انسان کی اچھی بری صفات سے واقف تھا یا اس نے فرشتوں سے سن رکھا تھا، اس لئے اسے گمان تھا کہ وہ بنی آدم کو بہکالے گا اور انہیں فریب دے کر خداوند عالم کی نعمتوں کے شکر اور اس کی طاعت و فرمانبرداری سے روک دے گا۔
انسانوں کو بہکانے میں شیطان کی کوششیں :
	حضرت سبرہ بن ابو فاکہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،  تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے فرمایا: ’’ شیطان، اِبنِ آدم کے تمام راستوں میں بیٹھ جاتا ہے اور اس کو اسلا م کے راستے سے بہکانے کی کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’کیا تم اسلام قبول کرو گے اور اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دو گے؟ لیکن وہ شخص شیطان کی بات نہیں مانتا اور اسلام قبول کر لیتا ہے تو پھر اس کو ہجرت کرنے کے راستے سے ورغلانے کی کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ’’ کیا تم ہجرت کرو گے اور اپنے وطن کی زمین اور آسمان چھوڑ دو گے ؟حالانکہ مہاجر کی مثال تو کھونٹے سے بندھے ہوئے اس گھوڑے کی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷، ۲/۸۱۔