ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:
’’ وَاشْکُرُوۡا لِیۡ وَلَا تَکْفُرُوۡنِ‘‘ (1)ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میراشکرادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔
اور ارشاد فرماتاہے
’’مَا یَفْعَلُ اللہُ بِعَذَابِکُمْ اِنۡ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنۡتُمْ ؕ وَکَانَ اللہُ شَاکِرًا عَلِیۡمًا ﴿۱۴۷﴾‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اوراگر تم شکر گزار بن جاؤاور ایمان لاؤتو اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اور اللہ قدر کرنے والا، جاننے والاہے۔
نیز ارشاد فرمایا:
’’ لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ وَلَئِنۡ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿۷﴾‘‘ (3)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔
حضرت صہیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’مجھے مومن کے حال پر تعجب ہوتا ہے، اس کے ہر حال میں بھلائی ہے اگر اس کو راحت پہنچے تو وہ شکر ادا کرتا ہے اور یہ اس کی کامیابی ہے اور اگر اس کو ضرر پہنچے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کی کامیابی ہے۔ (4)
امام محمد بن محمدغزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’دل کا شکر یہ ہے کہ نعمت کے ساتھ خیر اور نیکی کاا رادہ کیا جائے اور زبان کا شکر یہ ہے کہ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی جائے اور باقی اعضا کا شکر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں خرچ کیا جائے اور ان نعمتوں کواللہ تعالیٰ کی معصیت میں صرف ہونے سے بچایا جائے حتّٰی کہ آنکھوں کا شکر یہ ہے کہ کسی مسلمان کا عیب دیکھے تو ا س پر پردہ ڈالے(5)۔(6)
وَ لَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوۡا لِاٰدَمَ ٭ۖ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبْلِیۡسَ ؕ لَمْ یَکُنۡ مِّنَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿۱۱﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 …بقرہ:۱۵۲۔
2…النساء:۱۴۷۔
3…ابراہیم:۷۔
4…مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب المؤمن امرہ کلہ خیر، ص۱۵۹۸، الحدیث: ۶۴(۲۹۹۹)۔
5…احیاء العلوم، کتاب الصبر والشکر، الرکن الاول فی نفس الشکر، بیان فضیلۃ الشکر، ۴/۱۰۳-۱۰۴۔
6…شکر کے مزید فضائل جاننے کے لئے کتاب’’شکر کے فضائل‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )کا مطالعہ فرمائیں۔