دن صرف مسلمانوں کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور کافروں کے اعمال کا وزن نہ ہو گا لیکن اس بارے میں تحقیق یہ ہے کہ جن کافروں کو اللہ تعالیٰ جلد دوزخ میں ڈالناچاہے گا انہیں اعمال کے وزن کے بغیر دوزخ میں ڈال دے گا اور بقیہ کافروں کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اسی طرح بعض مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ اعمال کا وزن کئے بغیر بے حساب جنت میں داخل کر دے گا۔
وَلَقَدْ مَکَّنّٰکُمْ فِی الۡاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیۡہَا مَعٰیِشَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشْکُرُوۡنَ ﴿۱۰﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں جماؤ دیا اور تمہارے لیے اس میں زندگی کے اسباب بنائے بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں ٹھکانا دیا اور تمہارے لیے اس میں زندگی گزارنے کے اسباب بنائے، تم بہت ہی کم شکر اداکرتے ہو۔
{ وَلَقَدْ مَکَّنّٰکُمْ فِی الۡاَرْضِ:اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں ٹھکانا دیا۔} یہاں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی عظیم نعمتوں کو یا د دلایا کہ جن کی وجہ سے نعمتیں عطا فرمانے والے کا شکر ادا کرنا لازم ہوتا ہے چنانچہ ارشاد ہوا ’’ہم نے تمہیں زمین میں ٹھکانہ دیا اور تمہارے لئے اس میں زندگی گزارنے کے اسباب بنائے اور اپنے فضل سے تمہیں راحتیں مہیا کیں ، غذا، پانی، ہوا، سورج کی روشنی سب یہاں ہی بھیجی کہ تمہیں ان کے لئے آسمان پر یا سمندر میں جانے کی حاجت نہیں۔ زمین میں رہنے کا ٹھکانہ دینا اور زندگی گزارنے کے اسباب مہیا فرمانا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے کیونکہ اس نعمت میں زندگی کی تمام تر نعمتیں آگئیں ، کھانے پینے، پہننے، رہنے وغیرہ کے لئے تمام مطلوبہ چیزیں اس میں داخل ہیں لیکن اس کے باوجود لوگوں میں ناشکری غالب ہے۔ لوگوں کی کم تعداد شکر ادا کرتی ہے اور جو شکر کرتے ہیں وہ بھی کما حقہ ادا نہیں کرتے۔
شکر کی حقیقت اور ا س کے فضائلـ:
شکر کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی نعمت کواللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف منسوب کرے اور نعمت کا اظہار کرے جبکہ ناشکری یہ ہے کہ آدمی نعمت کو بھول جائے اور اسے چھپائے۔ قرآن و حدیث میں شکر کا حکم اورا س کے فضائل بکثرت بیان کئے گئے