آیت’’ فَاجْتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے :
(1)… صرف نیک اعمال کرنے سے کامیابی حاصل نہیں ہوتی بلکہ برے اعمال سے بچنا بھی ضروری ہے۔ یہ دونوں تقویٰ کے دو پر ہیں ، پرندہ ایک پر سے نہیں اڑتا۔
(2)… نیکیاں کرنا اور برائیوں سے بچنا دنیا اور دکھلاوے کے لئے نہ ہونا چاہئے بلکہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہونا چاہئے۔
اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الْعَدٰوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیۡسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلْ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ﴿۹۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا وے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: شیطان تویہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض وکینہ ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آتے ہو؟
{اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ:بیشک شیطان تو چاہتا ہے ۔} اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خوری اور جوئے بازی کا ظاہری دنیوی وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں جبکہ ظاہری دینی وبال یہ ہے کہ جوشخص اِن برائیوں میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر اور نماز سے روکے ، وہ بری ہے اور چھوڑنے کے قابل ہے، اسی لئے جمعہ کی اذان کے بعد تجارت حرام ہے۔(1)
وَاَطِیۡعُوا اللہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَاحْذَرُوۡا ۚ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمْ فَاعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بغض کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’بغض و کینہ‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔