پاس کفار اپنے جانور ذبح یا نَحر کرتے تھے تو ان پتھروں کوناپاک ا س لئے کہا گیا تاکہ کمزور ایمان والے مسلمانوں کے دلوں میں اگر ان کی کوئی عظمت باقی ہے تو وہ بھی نکل جائے، اور اگر انصاب سے مراد وہ بت ہوں جن کی اللہ تعالیٰ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے(ان کے پاس جانور ذبح کئے جاتے ہوں یا نہیں ) تو انہیں ناپاک ا س لئے کہا گیا تاکہ سب پر اچھی طرح واضح ہو جائے کہ جس طرح اصنام سے بچنا واجب ہے اسی طرح انصاب سے بچنا بھی واجب ہے۔ (1)
(4)… ازلام۔ زمانۂ جاہلیت میں کفار نے تین تیر بنائے ہوئے تھے، ان میں سے ایک پر لکھا تھا ’’ہاں ‘‘ دوسرے پر لکھا تھا ’’نہیں ‘‘ اور تیسرا خالی تھا ۔ وہ لوگ ان تیروں کی بہت تعظیم کرتے تھے اور یہ تیر کاہنوں کے پاس ہوتے اور کعبہ معظمہ میں کفارِ قریش کے پاس ہوتے تھے(جب انہیں کوئی سفر یا اہم کام درپیش ہوتا تو وہ ان تیروں سے پانسے ڈالتے اور جو ان پر لکھا ہوتا اس کے مطابق عمل کرتے تھے) ۔پرندوں سے اور وحشی جانوروں سے برا شگون لینا اور کتابوں سے فال نکالنا وغیرہ بھی اسی میں داخل ہے۔ (2)
کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جانے کی مذمت:
احادیث میں کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جانے کی شدید مذمت کی گئی ہے،ان میں سے 3احادیث درج ذیل ہیں :
(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو کسی نجومی یا کاہن کے پاس گیا اور اس کے قول کی تصدیق کی تو گویااِس نے اُس کا انکار کردیا جو (حضرت) محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر نازل کیا گیا۔ (3)
(2)…حضرت واثلہ بن اسقع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ، سرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو کاہن کے پاس آیا اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو چالیس (40) راتوں تک اس کی توبہ روک دی جاتی ہے اور اگر اُس نے اِس کی تصدیق کی تو کفر کیا۔(4)
(3)…حضرت قبیصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’خط کھینچنا، فال نکالنا اور پرندے اُڑا کر شگون لینا جِبْت (یعنی شیطانی کاموں ) میں سے ہے۔ (5)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…البحر المحیط، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۰، ۴/۱۶۔
2…البحر المحیط، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۰، ۴/۱۶۔
3…مستدرک، کتاب الایمان، التشدید فی اتیان الکاہن وتصدیقہ، ۱/۱۵۳، الحدیث: ۱۵۔
4…معجم ا لکبیر ، ابوبکر بن بشیر عن واثلۃ، ۲۲/۶۹، الحدیث: ۱۶۹۔
5…ابوداؤد، کتاب الطب، باب فی الخط وزجر الطیر، ۴/۲۲، الحدیث: ۳۹۰۷۔