Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
248 - 558
 فرمایا ’’ قرآن شفاعت کرنے والا ہے اور اس کی شفاعت مقبول ہے، ، جس نے (اس کے احکامات پر عمل کر کے) اسے اپنے سامنے رکھا تو یہ اسے پکڑ کر جنت کی طرف لے جائے گا اور جس نے (اس کے احکامات کی خلاف ورزی کر کے) اسے اپنے پیچھے رکھا تو یہ اسے ہانک کر جہنم کی طرف لے جائے گا۔(1)
اَنۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اُنۡزِلَ الْکِتٰبُ عَلٰی طَآئِفَتَیۡنِ مِنۡ قَبْلِنَا ۪ وَ اِنۡ کُنَّا عَنۡ دِرَاسَتِہِمْ لَغٰفِلِیۡنَ ﴿۱۵۶﴾ۙ 
ترجمۂکنزالایمان: کبھی کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر اُتری تھی اور ہمیں ان کے پڑھنے پڑھانے کی کچھ خبر نہ تھی۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: (اس لئے اترا) تاکہ تم یہ (نہ) کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر اُتری تھی اور ہمیں ان کے پڑھنے پڑھانے کی کچھ خبر نہ تھی۔
{ اَنۡ تَقُوۡلُوۡۤا:کبھی کہو۔} یعنی یہ قرآن اس لئے نازل کیا ہے تاکہ تمہیں یہ کہنے کی گنجائش باقی نہ رہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتابیں جیسے تورات و انجیل تو ہم سے پہلے کے دوگروہوں پریعنی یہودیوں اور عیسائیوں پر اُتری تھی، ہماری عرب کی سرزمین میں تونہ کوئی رسول آیا اور نہ کوئی کتاب۔ پھر جو کتابیں توریت و انجیل آئیں وہ ہماری زبان میں نہ تھیں اور نہ ہی ہمیں کسی نے ان کے معنی بتائے  پھر ہم ہدایت پر کیسے آتے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم نازل فرما کر بتادیا کہ اب تمہارا کوئی عذر باقی نہ رہا اور تم یہودو نصاریٰ کے محتاج نہ رہے۔ 
اَوْ تَقُوۡلُوۡا لَوْ اَنَّاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا الْکِتٰبُ لَکُنَّاۤ اَہۡدٰی مِنْہُمْ ۚ فَقَدْ جَآءَکُمۡ بَیِّنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَ ہُدًی وَّ رَحْمَۃٌ ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللہِ وَصَدَفَ عَنْہَا ؕ سَنَجْزِی الَّذِیۡنَ یَصْدِفُوۡنَ عَنْ اٰیٰتِنَا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…معجم الکبیر، ومن مسند عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، ۱۰/۱۹۸، الحدیث: ۱۰۴۵۰، ملتقطاً۔