Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
247 - 558
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ، تو تم اس کی پیروی کرو اور پرہیزگار بنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
{ وَہٰذَا کِتٰبٌ:اور یہ کتاب۔} یعنی قرآن شریف جو کثیر خیر والا، کثیر نفع والا اور کثیر برکت والا ہے اور قیامت تک رہے گا اور تحریف و تبدیل و نَسخ سے محفوظ رہے گا۔ قرآن اس لئے مبارک ہے کہ مبارک فرشتہ اسے لایا، مبارک مہینے رمضان میں لایا، مبارک ذات پر اترا، خالق و مخلوق کے درمیان وسیلہ ہے، جس کام پر اس کی آیات پڑھ دی جائیں اس میں برکت ہو جائے اور سب سے بڑھ کر اس کی تعلیمات اور ہدایت برکت والی ہیں۔
{ فَاتَّبِعُوۡہُ:تو تم اس کی پیروی کرو۔} یعنی قرآنِ کریم میں مذکور احکامات پر عمل کرو، ممنوعات سے باز آجاؤ اور اس کی مخالفت کرنے سے بچو تاکہ اس اتباع اور عمل کی برکت سے تم پر رحم کیا جائے۔
 امت پر قرآنِ مجید کا حق:
	اس سے معلوم ہو اکہ امت پر قرآنِ مجید کا ایک حق یہ ہے کہ وہ ا س مبارک کتاب کی پیروی کریں اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کرنے سے بچیں۔ افسوس! فی زمانہ قرآنِ کریم پر عمل کے اعتبار سے مسلمانوں کا حال انتہائی ناگفتہ بہ ہے، آج مسلمانوں نے ا س کتاب کی روزانہ تلاوت کرنے کی بجائے اسے گھروں میں جزدان و غلاف کی زینت بنا کر اور دکانوں پر کاروبار میں برکت کے لئے رکھا ہوا ہے اور تلاوت کرنے والے بھی صحیح طریقے سے تلاوت کرتے ہیں اور نہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے رب عَزَّوَجَلَّنے اس کتاب میں ان کے لئے کیا فرمایا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اس مقدس کتاب کو سینے سے لگا کر حِرْزِ جاں بنائے رکھا اور اس کے دستور و قوانین اور احکامات پر سختی سے عمل پیرا رہے تب تک دنیا بھر میں ان کی شوکت کا ڈنکا بجتا رہا اور غیروں کے دل مسلمانوں کا نام سن کر دہلتے رہے اور جب سے مسلمانوں نے قرآنِ عظیم کے احکام پر عمل چھوڑ رکھا ہے تب سے وہ دنیا بھر میں ذلیل و خوار ہو رہے اور اغیار کے دست نگر بن کر رہ گئے ہیں۔
وہ ز مانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر				اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
	قرآنِ کریم کے احکام پر عمل نہ کرنے کا دنیوی نقصان تو اپنی جگہ، اخروی نقصان بھی انتہائی شدید ہے، چنانچہ 
	حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد