Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
237 - 558
 جس کا اہلِ جاہلیت میں دستور تھا کہ وہ بارہا فقر و تنگدستی کے اندیشے سے اولاد کومار ڈالتے تھے، انہیں بتایا گیا کہ روزی دینے والا تواللہ عَزَّوَجَلَّ ہے جو تمہیں اور انہیں سب کو روزی دے گا تو پھر تم کیوں قتل جیسے شدید جُرم کا ارتکاب کرتے ہو۔
عورتوں کے حقوق سے متعلق اسلام کی حسین تعلیمات:
	اس آیت میں ان لوگوں سے خطاب ہے جو غریبی کی وجہ سے لڑکے لڑکیوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور جو مالدار شرم و عار کی وجہ سے اپنی لڑکیوں کو قتل کرتے تھے ان کا ذکر دوسری آیات میں ہے۔ ان کے مقابلے میں اسلام کی تعلیمات کس قدر حسین ہیں اور اسلام نے بچیوں اور عورتوں کوکیسے حقوق عطا فرمائے اس کیلئے صرف درج ذیل 3 حدیثوں کا مطالعہ فرمالیں۔
(1)…حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے  ارشاد فرمایا: ’’ جس شخص کی بیٹی ہو تو وہ اسے زندہ درگور نہ کرے، اُسے ذلیل نہ سمجھے اور اپنے بیٹے کو اس پر ترجیح نہ دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ (1)
(2)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’جس کی تین بیٹیا ں یا تین بہنیں ہوں ، یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے معاملے میں اللہ تعالیٰسے ڈرے تو اس کے لئے جنت ہے۔ (2)
(3)… حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص تین بیٹیوں یا بہنوں کی اس طرح پرورش کرے کہ ان کو ادب سکھائے اور ان سے مہربانی کا برتاؤ کرے یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں بے نیاز کردے (مثلاً ان کا نکاح ہو جائے ) تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت واجب فرما دیتا ہے۔ یہ ارشادِ نبوی سن کر ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: ’’اگر کوئی شخص دو لڑکیوں کی پرورش کرے ؟ تو ارشاد فرمایا: اس کے لئے بھی یہی اجر و ثواب ہے۔ ‘‘(راوی فرماتے ہیں ) یہاں تک کہ اگر لوگ ایک کا ذکر کرتے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاس کے بارے میں بھی یہی فرماتے۔(3)
{ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوٰحِشَ:اوربے حیائیوں کے پاس نہ جاؤ۔} اس آیت میں ظاہری وباطنی بے حیائیوں کے پاس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی فضل من عال یتیماً، ۴/۴۳۵، الحدیث: ۵۱۴۶۔
2…ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی النفقۃ علی البنات والاخوات، ۳/۳۶۷، الحدیث: ۱۹۲۳۔
3…شرح السنہ، کتاب البر والصلۃ، باب ثواب کافل الیتیم، ۶/۴۵۲، الحدیث: ۳۳۵۱۔